حکومت نے بلوچستان میں ممکنہ سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر ایک اہم تھریٹ الرٹ جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو فوری حفاظتی اقدامات کی ہدایت کی ہے۔
یہ الرٹ حالیہ دنوں میں بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کی کارروائیوں کے بعد دیگر بلوچ مسلح تنظیموں کی سرگرمیوں میں اضافے کے پیش نظر مجموعی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں جاری کیا گیا ہے۔
بلوچستان محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ بعض دہشت گرد یا تخریبی عناصر کی جانب سے صوبائی اور قومی اسمبلی کے چند ارکان کی جان و مال کو خطرات لاحق ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
مراسلے کے مطابق جن شخصیات کے حوالے سے خاص طور پر خدشات ظاہر کیے گئے ہیں، ان میں اصغر خان ترین، یونس زہری، زبد ریکی، مولانا عبدالواسع اور مولانا عبدالغفور حیدری شامل ہیں ۔
حکومت نے اس صورتحال کو "انتہائی اہم اور ہنگامی” قرار دیتے ہوئے فرنٹیئر کور، پولیس، کمشنرز اور ضلعی انتظامیہ سمیت تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مذکورہ شخصیات، ان کی رہائش گاہوں اور دفاتر کی سیکیورٹی کا فوری جائزہ لیں اور ضروری حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں۔
مزید برآں، مراسلے میں متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ حساس علاقوں میں گشت اور نگرانی میں اضافہ کیا جائے، جبکہ انسدادِ دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (CTD) اور اسپیشل برانچ کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے۔ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یہ اقدامات بلوچستان میں حالیہ سیکیورٹی چیلنجز، خصوصاً BLA کی جانب سے کی گئی کارروائیوں کے بعد اور دیگر بلوچ مسلح تنظیموں کی سرگرمیوں میں اضافے کے پیش نظر خطرات کے ازالے اور امن و امان کی صورتحال کو مستحکم رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔