ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری ٹیلی وژن پر ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ایران پڑوسی ممالک پر حملہ نہیں کرے گا ’جب تک کہ پہلے حملہ نہ کیا جائے۔‘
انھوں نے پڑوسی ممالک سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم کسی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے‘ اور علاقائی تعاون کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ’امن اور سکون قائم کیا جا سکے۔‘
صدر مسعود پزشکیان نے مزید بتایا کہ قیادت کی جانب سے مسلح افواج کو ہدایت دی گئی ہے کہ ’اب سے پڑوسی ممالک پر حملہ نہ کیا جائے، جب تک کہ (وہاں سے) پہلے حملہ نہ ہو۔‘
انھوں نے خبردار کیا کہ جو قوتیں اس موقع کو ایران پر حملے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں، انھیں ’سامراجیت کی کٹھ پتلی‘ نہیں بننا چاہیے۔ ان کے مطابق اسرائیل یا امریکہ کی حمایت ’عزت اور آزادی کا راستہ نہیں ہے۔‘
ایران کی عبوری قیادت کونسل کے رکن کی حیثیت سے مسعود پزشکیان نے دو اہم پیغامات دیے۔ اُنھوں نے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران ’آخر تک لڑے گا۔‘
اس کے ساتھ ہی، اُنھوں نے حالیہ دنوں میں نشانہ بنائے گئے پڑوسی ممالک سے معافی مانگی، یہ بتاتے ہوئے کہ کچھ حملے گذشتہ سنیچر کے روز شروع ہونے والے حملوں کے بعد جاری کردہ ’اپنی مرضی سے فائر‘ کے احکامات کے بعد ہوئے۔
اُنھوں نے کہا کہ کونسل نے مسلح افواج کو حکم دیا ہے کہ وہ پڑوسی ریاستوں کو نشانہ بنانا بند کر دیں جب تک کہ ایران پر حملے ان کی سرزمین سے شروع نہ ہوں۔
ایران کے اندر اس پیغام کا مجموعی طور پر خیر مقدم نہیں کیا گیا۔ کچھ سخت گیر لوگوں نے لہجے کو کمزور قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے، جو ایک نئے سیاسی لمحے کی عکاسی کرتی ہے جس میں کئی سینئر سخت گیر شخصیات ختم ہو چکی ہیں جبکہ نچلے درجے کے لوگ ملک کی سمت کے بارے میں بے چین ہیں۔