برطانوی وزیرِ خزانہ ریچل ریوز نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات کا خاتمہ اور فوجی تصادم کا آغاز امریکہ کی ’’غلطی‘‘ ہے، اور برطانیہ اس جنگ یا آبنائے ہرمز میں امریکی فوجی ناکہ بندی کا حصہ نہیں بنے گا۔
سی این بی سی کے پروگرام انویسٹ اِن امریکہ میں گفتگو کرتے ہوئے ریچل ریوز نے کہا کہ ’’اس وقت بہترین معاشی پالیسی، نہ صرف برطانیہ بلکہ پوری دنیا کے لیے کشیدگی میں کمی ہے۔‘‘ ان کے مطابق فوجی تصادم عالمی معیشت کے لیے خطرناک ہے اور برطانیہ اس راستے کا حصہ نہیں بن سکتا۔
برطانوی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکہ کی جانب سے کی جانے والی اضافی فوجی کارروائیوں میں کوئی کردار ادا نہیں کرے گی۔
امریکہ اور برطانیہ کے درمیان اس تنازع پر اختلافات کے باوجود ریچل ریوز نے کہا کہ دونوں ممالک کے ’’خصوصی تعلقات‘‘ متاثر نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’دوستوں کے درمیان اختلاف کی گنجائش ہوتی ہے۔‘‘
ریچل ریوز آج واشنگٹن میں اپنے امریکی ہم منصب سکاٹ بیسنٹ سے ملاقات کریں گی۔ امریکہ روانگی سے قبل ڈیلی مرر کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ ’’بہت مایوس اور ناراض‘‘ ہیں کہ امریکہ نے جنگ تو شروع کر دی لیکن ’’اس سے نکلنے کی کوئی حکمتِ عملی نہیں سوچی۔‘‘
بی بی سی کے ایک پروگرام میں حکومتی وزیر جیمز مرے سے ریچل ریوز کے سخت ریمارکس پر سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وزیرِ خزانہ ’’ان خیالات کی عکاسی کر رہی ہیں جو شاید برطانیہ میں بہت سے لوگ رکھتے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق ’’یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔ ہم نے اس میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا، لیکن اس کے باوجود ہماری معیشت پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔‘‘
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ دیگر ترقی یافتہ معیشتوں کے مقابلے میں برطانیہ اس تنازع کے معاشی اثرات سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’’طویل المدت عالمی سلامتی‘‘ کے لیے ’’تھوڑی بہت معاشی تکلیف‘‘ قابلِ قبول ہے۔