بلوچستان کے شہر نوشکی میں پاکستانی فوج نے انٹر سروسز انٹلیجنس (آئی ایس آئی) ہیڈکوارٹرز کے قریب واقع عمارتوں کو مسمار کردیا ہے۔
فوجی حکام نے مزید گھروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے خالی کرنے کی مہلت دی ہے، جس کے بعد ان گھروں کو بھی مسمار کرنے کا کہا گیا ہے۔
اس سے قبل نوشکی اور نواحی علاقوں میں چار گھروں کو بارودی مواد اور بھاری مشینری کے ذریعے تباہ کیا گیا تھا۔ ان میں بلوچ لبریشن آرمی کے سربراہ بشیر زیب بلوچ کا آبائی گھر اور بعض سیاسی شخصیات کے مکانات شامل تھے۔ اسی طرح گوادر اور کیچ میں بھی گھروں کو نذر آتش کیا گیا۔
نوشکی شہر میں شام چھ بجے سے کرفیو نافذ ہے جو بدستور جاری ہے۔
شہریوں کے مطابق پاکستانی فورسز نے تنبیہ کی ہے کہ جب تک وہ ریاست کے حق میں ریلی کا اہتمام نہیں کرتے اور اپنے مکانوں و دکانوں پر پاکستانی جھنڈا نہیں لگاتے، کرفیو نہیں ہٹایا جائے گا۔
واضح رہے کہ 31 جنوری کو بلوچ لبریشن آرمی نے آپریشن “ھیروف” کے تحت بلوچستان کے چودہ شہروں میں مربوط حملے کیے تھے۔ اس دوران نوشکی شہر پر بھی بی ایل اے نے چھ روز تک کنٹرول حاصل کیا اور پاکستانی فوج کے دو مرکزی ہیڈکوارٹرز سمیت آئی ایس آئی کے دفتر کو خودکش اور دیگر حملوں میں نشانہ بنایا، جن میں بڑی تعداد میں اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔