بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کی جانب سے شہید رضا جہانگیر اور شہید امداد بجیر کی ساتویں برسی کی مناسبت سے ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
رضا جیانگیر اور امداد بجیر نوجوانوں کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
چئیرمین سہراب بلوچ
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی چئیرمین سہراب بلوچ کی زیر صدارت شہید رضا جہانگیر اور امداد بجیر کی ساتویں برسی کی مناسبت سے ریفرنس منعقد کیا گیا۔ منعقدہ ریفرنس میں بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے ممبران بھی شریک ہوئے اور شہید رضا جہانگیر اور امداد بجیر کو خراج عقیدت پیش کیا۔
کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی چئیرمین نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد نہ صرف شہدا کو خراج تحسین پیش کرنا ہے بلکہ اس ریفرنس کے ذریعے عام عوام اور بلوچ جہد کاروں کو شہدا کے کردار و اعمال سے آگاہی فراہم کرکے انہیں کہ نقش قدم پہ چلنے کی تلقین کرنا ہے۔جن شہدا کا تذکرہ آج کے اس ریفرنس میں کیا جارہا ہے جنہوں نے اپنی زندگی قوم کے بہتر مسقتبل کے لئے قربان کردی۔ان نوجوانوں نے سخت اور کھٹن حالات میں سیاسی پروگرام کو نصب العین سمجھ کر جدوجہد کی اور سیاسی شعور کو وسعت دی۔
چئیرمین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج جن ذمہ داریوں اور فرائض کا فرض ہمارے حوالے کیا ہے ہمیں ان کرداروں کو سمجھ کر انکے فکر و فلسفے پر کاربند رہ کر جدوجہد کو وسعت دینی کی کوشش کرنی چاہیۓ۔
آج بلوچ نوجوانوں کو بلوچ قومی تحریک اور تاریخ سے دور رکھنے کے لئے جن سازشوں کا پرچار کیا جارہا ہے۔ان کا مقابلہ اس وقت کیا جائیگا جب ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ کر ان کا مقابلہ کرینگے۔
بلوچ تاریخ میں آج کا دن نہایت اہم ہے کیونکہ قابض ریاست نے اپنی مصنوعی آزادی کے دن ہمارے مرکزی قائدین کو شہید کرکے بلوچ قوم کو واضح پیغام دیا کہ بلوچ اور پاکستان تضاد ہے جن کی تہذیب,ثقافت اور رسم و رواج ایک دوسرے سے مختلف ہے جن کا ایک ساتھ رہنا ناممکن امر ہے۔
پروگرام سے بی این ایم قائدین نے خطاب کرتے ہوئے شہدا کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ شہید رضا اور امداد بجیر بلوچ تاریخ کے روشن ستارے تھے جن کی جدوجہد کا محور و مرکز بلوچ قومی آزادی ہے۔