وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ جاری، مزید جبری لاپتہ افراد کے کیسز کمیشن کو فراہم کریئے گئے

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز ( وی بی ایم پی ) کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ کو تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6089 دن مکمل ہوگئے۔

اس دوران ایڈوکیٹ محمد حسن مینگل اور سلطانہ بلوچ نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی، انہوں نے جبری گمشدگیوں کی فوری خاتمہ اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا، کہ انہوں نے تنظیمی سطح پر محمد عرفان قمبرانی، تنویر احمد اور بشیر احمد کے کیسز کو صوبائی حکومت اور لاپتہ افراد کے حوالے سے قائم کمیشن کو فراہم کردیں۔

واضع رہے، محمد عرفان قمبرانی کو سیکورٹی فورسز نے 22 جنوری کی رات کو کلی قمبرانی کوئٹہ سے حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کردیا۔

17 سالہ تنویر احمد اور 15 سالہ بشیر احمد جو دونوں آپس میں بھائی ہے، جن کو سی ٹی ڈی اور دیگر ملکی اداروں کے اہلکاروں نے 3 فروری کی رات سریاب کسٹم کوئٹہ سے حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کردیا۔

چیئرمین نصراللہ بلوچ نے صوبائی حکومت اور کمیشن سے اپیل کی کہ وہ محمد عرفان قمبرانی، تنویر احمد اور بشیر احمد کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنائے، اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظر عام لاکر عدالت میں پیش کرنے میں اپنی کردار ادا کریں، تاکہ ان کے خاندان کو ان کی جبری گمشدگی کی اذیت سے نجات مل سکے۔

Share This Article