بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حالیہ دنوں فوجی کارروائیوں اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیںجہاں 3 افراد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاع ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج نے بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے علاقے ڈغاری میں بھاری تعداد میں گاڑیوں کے ذریعے پیش قدمی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے کر فوجی جارحیت کی۔ اس دوران کواڈ کاپٹر کے ذریعے مختلف مقامات پر بم گرائے گئے، تاہم جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ 3 افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے، جن کی شناخت تاحال سامنے نہیں آئی۔
اسی طر ح ضلع گوادر کے ساحلی تحصیل پسنی میں بھی فوجی جارحیت جاری ہے۔
اطلاعات کے مطابق مغرب کے بعد ڈرون طیاروں کی پروازیں کی گئیں اور صبح کے وقت فوجی دستے پہاڑی علاقوں میں داخل ہوئے۔
اب تک کسی گرفتاری یا جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ حکام کی جانب سے کوئی موقف بھی سامنے نہیں آیا۔
علاوہ ازیں ضلع خضدار کے علاقے کہن زہری میں ایک شہری کے گھر پر ڈرون حملہ کیا گیا۔ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم گھر کو نقصان پہنچا۔
متاثرہ شہری عطاء اللہ جتک نے اس حملے کو بلاجواز اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے اعلیٰ حکام سے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
یہ واقعات بلوچستان میں جاری غیر اعلانیہ فوجی آپریشنز کی نشاندہی کرتے ہیں، جن کی وجہ سے مقامی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے۔