بی وائی سی کی رپورٹ میں بلوچستان میں 7 دہائیوں پر محیط خاموش نسل کشی کا جائزہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) نے ایک تفصیلی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں 1948 سے جاری سیاسی و عسکری اقدامات کو ایک "خاموش نسل کشی” کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ عمل محض سیاسی تنازع نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب کے منظم استحصال کی عکاسی کرتا ہے۔

بیان کے مطابق 1948 میں بلوچستان کو جبری طور پر ضم کیا گیا، جسے بلوچ عوام اپنی شناخت اور حقِ خود ارادیت پر حملہ تصور کرتے ہیں۔ اس کے بعد سے مسلسل عدم تحفظ اور مزاحمت کی فضا قائم رہی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہائیوں پر محیط فوجی کارروائیاں امن قائم کرنے کے بجائے بلوچ عوام کو جسمانی طور پر کمزور کرنے کا ذریعہ بنیں۔

2008 کے بعد جبری لاپتہ افراد کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق اس دور کے آغاز میں 1,100 سے زائد افراد لاپتہ ہوئے۔

رپورٹ میں حیات بلوچ، حمدان اور بالاچ بلوچ کے ماورائے عدالت قتل کو ریاستی مشینری کی سفاکیت کی مثال قرار دیا گیا۔

2014 میں توتک کے مقام پر اجتماعی قبروں کی دریافت کو انسانی تاریخ کا سیاہ باب قرار دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ قبریں ہزاروں خاندانوں کی امیدوں کے مزار ہیں، جو اپنے پیاروں کی تلاش میں دہائیوں سے سرگرداں ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے وسائل دوسروں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، جبکہ مقامی عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ سوئی کی گیس اور گوادر کی بندرگاہ کو مثال کے طور پر پیش کیا گیا کہ مقامی آبادی آج بھی لکڑی جلا کر کھانا پکاتی ہے اور پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔

رپورٹ میں بلوچی زبان، تاریخ اور روایات کو نظرانداز کرنے کو "ثقافتی نسل کشی” قرار دیا گیا۔ کمیٹی کے مطابق یہ عمل بلوچ عوام کو اپنی شناخت سے محروم کرنے کی کوشش ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان کی صورتحال محض داخلی مسئلہ نہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔ جبری لاپتہ افراد، ماورائے عدالت قتل، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور ثقافتی دباؤ نے بلوچ عوام میں محرومی اور مزاحمت کو جنم دیا ہے۔ اگر ان مسائل کو عالمی سطح پر نظرانداز کیا گیا تو یہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے خطے کے لیے سیاسی اور سماجی بحران کا باعث بن سکتے ہیں۔

Share This Article