بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ اور دیگر اہم شہروں میں بلوچ لبریشن آرمی کے حالیہ حملوں کے بعد بلوچستان کی کٹھ پتلی حکومت نے سیکیورٹی حکمتِ عملی کو ازسرِنو ترتیب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق بلوچستان حکومت، پاکستانی فوج کی مشاورت سے، بلوچ مسلح گروہوں کو شہری علاقوں میں پیش قدمی سے روکنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
حالیہ فدائی حملے کے بعد، جس میں عسکریت پسند کوئٹہ کے ریڈ زون تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، ریڈ زون کو مکمل طور پر ایک محفوظ چاردیواری کے اندر لانے کے منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد حساس سرکاری تنصیبات اور شہری آبادی کو ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔
کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیر صدارت سیف سٹی منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں بلوچستان کے اہم شہروں میں جدید کیمروں، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور مانیٹرنگ میکانزم کی تنصیب پر بریفنگ دی گئی۔
وزیراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ سیف سٹی اتھارٹی کے قیام کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
ان کے مطابق سیف سٹی منصوبوں کے لیے مالی و تکنیکی وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیے جائیں گے۔ انتظامی و تکنیکی رکاوٹیں فوری طور پر دور کی جائیں۔ روڈ نیٹ ورک، حساس تنصیبات اور عوامی مقامات کی ہمہ وقت نگرانی یقینی بنائی جائے۔ منصوبے کی تکمیل سے جرائم کی روک تھام، ٹریفک مینجمنٹ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر ہوگی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کے بعد بلوچستان دوسرا صوبہ ہوگا جہاں جدید سیف سٹی سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، جبکہ سیف سٹی اتھارٹی کے قیام سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی میں بھی مؤثر اضافہ ہوگا۔
اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان، پرنسپل سیکرٹری عمران زرکون سمیت دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔