پاکستان میں سندھی زبان کے معروف ادیب اور مصنف تاج جویو نے اپنے بیٹے سارنگ جویو کی گمشدگی سمیت دیگر اعتراضات کی بنا پر صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
تاج جویو سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کئی افراد کو صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی (پرائیڈ آف پرفارمنس) دینے کا اعلان کیا گیا تھا جنھیں 23 مارچ 2021 کو پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈز دیے جائیں گے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تاج جویو کا کہنا تھا کہ انھوں نے صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی صرف اپنے بیٹے سارنگ جویو کی مبینہ جبری گمشدگی کی وجہ سے نہیں بلکہ سندھ کے ساتھ ہونے والی ’دیگر ناانصافیوں‘ کی وجہ سے بھی مسترد کیا ہے۔
اب خبر سامنے آئی ہے کہ سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی تاج جویو کے بیٹے سارنگ جویو کی گمشدگی کا معاملہ اپنے 17 اگست کے اجلاس میں اٹھائے گی۔
کمیٹی نے اس اجلاس میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو بطور چیئرمین لاپتہ افراد کمیشن اور آئی جی پولیس سندھ مشتاق احمد مہر کو طلب کیا ہے۔
تاج جویو نے کہا کہ اگر ان کے بیٹے سارنگ جویو ’لاپتہ نہ کیے جاتے‘ تب بھی اس ایوارڈ کے بارے میں ان کا مو¿قف یہی ہوتا۔
انھوں نے کہا: ’ایک ایسے وقت میں جب سندھ میں سینکڑوں لوگ لاپتہ ہیں، مردم شماری کے اعداد و شمار تبدیل کیے جا رہے ہیں اور سندھ میں قومیتی توازن کو بدلا جا رہا ہے، ایسے میں یہ ایوارڈ لینا میرے ضمیر کے خلاف ہے۔‘
تاج جویو کے بیٹے سارنگ جویو شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (زیبسٹ) کراچی میں سندھ ابھیاس اکیڈمی میں ریسرچ ایسوسی ایٹ، اور سندھ سجاگی فورم نامی تنظیم کے جوائنٹ سیکریٹری ہیں۔
نامور ادیب تاج جویو نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بیٹے سارنگ جویو کو سندھ کے مسائل پر آواز اٹھانے کی ‘سزا دینے’ کے لیے گرفتار کیا گیا ہے
وہ سندھ سے لاپتہ افراد کی بازیابی سمیت غیر مقامی افراد کے سندھ کے ڈومیسائل بننے، اور مردم شماری وغیرہ سمیت کئی دیگر مسائل کے حوالے سے بھی سرگرم تھے۔
تاج جویو نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو سندھ کے مسائل پر آواز اٹھانے کی ‘سزا دینے’ کے لیے گرفتار کیا گیا ہے۔
ان کا الزام ہے کہ انھیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لیا ہے، تاہم اب تک سرکاری طور پر اس کی کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ عجیب تماشا ہے کہ ایک طرف ان کا بیٹا جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے اور دوسری جانب ان کے لیے صدارتی ایوارڈ کا اعلان کیا جا رہا ہے۔
سنیچر کو سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کے سربراہ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اجلاس کا ایجنڈا اپنے ٹوئٹر اکاو¿نٹ پر شائع کیا۔ انھوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں سندھ میں لاپتہ افراد کے یک نکاتی ایجنڈے پر اجلاس منعقد کیا جائے گا، اور پھر بلوچستان (کے حوالے سے)۔ انھوں نے مزید لکھا کہ آئینی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کی وجوہات پر غیر رسمی گفتگو کے لیے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بلایا جائے گا۔
انھوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعلیٰ، آئی جی، سیکریٹری داخلہ، ڈی جی رینجرز، اور سندھ میں کام کرنے والے تمام انٹیلیجنس اداروں کے سربراہان کو بلایا جائے گا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی ایم این اے نفیسہ شاہ نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ایک طرف ریاست ان کی خدمات کا اعتراف کر رہی ہے تو دوسری جانب ان کے بیٹے کو حقوق پر بات کرنے کے لیے گرفتار کر لیا گیا۔ انھوں نے سارنگ جویو کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
اینکر پرسن سحر شاہ رضوی نے تاج جویو کی ویڈیو شائع کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب وہ سڑکوں پر اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے احتجاج کر رہے ہیں، تب ان کو تمغہ برائے حسنِ کارکردگی پیش کرنا غیر انسانی عمل ہے۔
صحافی و اینکر حامد میر نے لکھا کہ ایک باپ نے صدر سے ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا کیونکہ اس کا بیٹا لاپتہ ہے، اس کا بیٹا صرف لاپتہ افراد کے لیے آواز اٹھا رہا تھا، اگر اس نے کوئی قانون توڑا تھا تو اسے کسی عدالت میں کیوں پیش نہیں کیا گیا؟ کچھ ریاستی ادارے قانون کی تکریم کیوں نہیں کرتے؟
تاج جویو کے مطابق 11 اگست کی رات ڈیڑھ بجے پولیس اور رینجرز کی متعدد گاڑیوں نے اختر کالونی میں پلازا کا گھیراو¿ کیا اور سی سی ٹی وی کیمرے توڑ دیے، اس کے بعد 10 کے قریب پولیس اور سادہ لباس میں نقاب پوش اہلکار سارنگ کے کرائے پر گھر کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوگئے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ سارنگ کے چھوٹے بچوں کو تھپڑ مارے گئے اور ان کی اہلیہ کو بھی کمرے میں بند کر دیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ اہلکار اس دوران ان کی الماریاں توڑ کر ان کا بیگ، موبائل، کمپیوٹر اور کتابیں اٹھا کر لے گئے ہیں جبکہ اس دوران پورا پلازا 50 کے قریب پولیس اور رینجرز اہلکاروں کے گھیراو¿ میں تھا۔
تاج جویو نے بتایا کہ واقعے کے بعد ان کا خاندان ایف آئی آر درج کروانے کے لیے محمود آباد تھانے گیا جہاں ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں نے ایف آئی آر درج کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا، جس کے بعد انھیں ہائی کورٹ میں درخواست دینی پڑی۔
انھوں نے بتایا کہ ہائی کورٹ میں پٹیشن کے بعد سارنگ کی اہلیہ سہنی جویو کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔
بی بی سی کے پاس موجود ایف آئی آر کی کاپی میں انھوں نے مو¿قف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ رات ’25 سے 30 اشخاص جن میں کچھ کالی وردی میں تھے اور کچھ سادہ کپڑوں میں تھے، ہمارے گھر کے اندر داخل ہوئے اور خاوند کو زبردستی پکڑ کر ساتھ باہر لے گئے، جاتے ہوئے میرے شوہر کے دفتر کا بیگ، کمپیوٹر سی پی یو بھی اپنے ساتھ لے گئے، اور الماری کی تلاشی لی اور کچھ کتابیں اور تصاویر وغیرہ بھی ساتھ لے گئے۔’
انھوں نے ایف آئی آر میں مو¿قف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ نامعلوم افراد نے چہرے پر ماسک پہن رکھے تھے۔ واضح رہے کہ اس ایف آئی آر میں کسی کو بھی ملزم نامزد نہیں کیا گیا ہے۔
تاج محمد جویو کا تعلق سندھ کے ضلع نوابشاہ (حالیہ شہید بینظیرآباد) سے ہے۔ سنہ 1972 میں پرائمری استاد کے طور پر اپنے تدریسی کریئر کا آغاز کرنے کے بعد سے وہ سندھ کے مختلف تعلیمی اداروں میں پڑھاتے رہے ہیں۔
اس کے علاوہ وہ سندھی زبان کی ترویج و ترقی کے لیے قائم کیے گئے ادارے سندھی لینگویج اتھارٹی (ایس ایل اے) کے سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ تاج جویو سندھی ادبی سنگت کے سیکریٹری جنرل، سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (سپلا) کے پریس اور کلچرل سیکریٹری، لوک ورثہ بورڈ اسلام آباد اور سندھ یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف سندھالوجی کے مشاورتی بورڈز کے ممبر بھی رہ چکے ہیں۔
وہ مشہور صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی پر شائع ہونے والے تحقیقی مقالوں کو کتابی صورت میں بھی ترتیب دے چکے ہیں۔
سندھ کے مشہور دانشور اور قوم پرست شخصیت سائیں جی ایم سید اور ان کے خاندان کے ساتھ بھی تاج جویو کی سیاسی اور ادبی وابستگی رہی ہے۔
مہران یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے مدرس اور متحرک سماجی شخصیت پروفیسر انعام بھٹی بتاتے ہیں کہ تاج جویو کے والدین مجید کیریو نامی جس گاو¿ں میں رہتے تھے، وہاں جی ایم سید کی زمینداری تھی جو ان کے بیٹے سید امداد محمد شاہ کے حصے میں آئی تھی۔
ان زمینوں پر تاج جویو کے والدین مزدوری کرتے تھے اور اس طرح تاج جویو کا تعلق جی ایم سید کے خاندان سے رہا۔ سنہ 70 کی دہائی میں وہ جیئے سندھ محاذ میں متحرک ہونے کی وجہ سے جیل گئے اور اپنی ہائی سکول ٹیچر کی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
تاہم جیل سے آزاد ہونے کے بعد انھوں نے سندھ پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کیا اور کالج سطح پر سندھی کے لیکچرر منتخب ہوئے۔
پروفیسر انعام بھٹی کے مطابق جی ایم سید کے خطوط پر مشتمل کتابیں تاج جویو اور آزاد قاضی کی محنت سے مرتب ہو پائیں۔
ان میں سے سب سے اہم کتاب جی ایم سید کا عدالتی بیان ہے جو ‘سندھ گالھائی تھی’ کے عنوان سے شائع ہو چکی ہے۔ یہ کتاب جی ایم سید تاج جویو کو املا کرواتے تھے۔
بی بی سے کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سنہ 1997 میں جب جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ سندھ اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر تھے، تو اس وقت تاج جویو بھی ان سے سیاسی طور پر ہم آہنگ تھے اور ان کے قریب تصور کیے جاتے تھے۔
یاد رہے کہ تاج جویو صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی واپس کرنے والے پہلے سندھی ادیب نہیں ہیں، بلکہ اس سے قبل سندھ کے تاریخ نویس اور مترجم عطا محمد بھنبھرو نے بھی سنہ 2012 میں پیپلز پارٹی کے دور میں یہ ایوارڈ لینے سے انکار کردیا تھا۔
سنہ 2015 میں ان کے بیٹے راجہ داہر کی گمشدگی عمل میں آئی اور پھر تقریباً ڈیڑھ ماہ لاپتہ رہنے کے بعد جولائی 2015 میں ان کی تشدد زدہ لاش کراچی میں سپر ہائی وے کے قریب سے ملی تھی۔