بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں کائونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ( سی ٹی ڈی)کے اہلکار کے گھر پر بم حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ ایک جبری لاپتہ نوجوان بھی بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا ہے۔
تربت شہر سے اطلاعات ہیں کہ گزشتہ شب آپسر بنڈے بازار میں نامعلوم افراد نے سی ٹی ڈی کے اہلکار وثام کے گھر پر دستی بم پھینکا جو گھر کے احاطے میں گر کر زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔
تاہم پولیس نے اس سے کسی طرح کے جانی و مالی نقصان کی تصدیق نہیں کی۔
واضع رہے کہ سی ٹی ڈی کو عوامی سطح پر بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل میں ملوث سنگین الزامات کا سامنا ہے ۔
دوسری جانب تربت سے جبری لاپتہ ایک نوجوان ریاستی اذیت خانے سے رہا کر اپنے گھر پہنچ گیا ہے۔
20 اگست 2025 کو تربت شہر سے جبری لاپتہ ہونے والے سولانی گورکوپ کے رہائشی کمال دینار بازیاب ہو گئے ہیں۔
خاندانی ذرائع کے مطابق کمال دینار کی بازیابی کی اطلاع ملنے کے بعد اہلِ خانہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
تاہم ان کی گمشدگی اور بازیابی سے متعلق مزید تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔
یاد رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ طویل عرصے سے زیر بحث ہے، اور ایسے واقعات میں بازیابی کی اطلاعات کو متاثرہ خاندانوں کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جاتا ہے۔