دکی اور پنجگور سے 4 بلوچ شہریوں کی جبری گمشدگی کے بعد ماورائے عدالت قتل تشویشناک ہے، بی وائی سی

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں چار بلوچ شہریوں محمد فرید بلوچ، محمد انور بلوچ، پزیر بلوچ اور کریم جان کی جبری گمشدگی اور بعد ازاں ان کی لاشیں ملنے کے واقعات کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعات بلوچستان میں جاری ماورائے عدالت کارروائیوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تازہ مثال ہیں۔

6 فروری 2026 کو کلی سفر علی جنگل، دکی سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ کسان محمد فرید بلوچ کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی۔انہیں 4 جون 2025 کو گھر سے جبری طور پر حراست میں لیا گیا تھا۔ خاندان نے آٹھ ماہ تک ان کی تلاش جاری رکھی، مگر حکام کی جانب سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

بی وائی سی کے مطابق فرید بلوچ کی ہلاکت بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے جاری سلسلے کی عکاسی کرتی ہے۔

اسی طرح اسی علاقے کلی سفر علی جنگل، دکی کے 44 سالہ کسان محمد انور بلوچ کو بھی 4 جون 2025 کو نماز کی ادائیگی کے فوراً بعد مسجد کے باہر سے حراست میں لیا گیا تھا۔

تقریباً سات ماہ بعد 4 جنوری 2026 کو ان کی لاش پھینکی گئی۔

بی وائی سی کا کہنا ہے کہ انور بلوچ ایک محنت کش شہری تھے اور ان کی ہلاکت بلوچستان میں جاری ریاستی جبر کے تسلسل کی نشاندہی کرتی ہے۔

وشبود پنجگور کے رہائشی 32 سالہ پزیر بلوچ کو 25 نومبر 2025 کو ریاستی حمایت یافتہ گروہوں نے حراست میں لیا۔دو ماہ بعد 7 فروری 2026 کو ان کی تشدد زدہ لاش واشبوڈ میں پھینکی گئی۔

بی وائی سی کے مطابق پزیر بلوچ کے جسم پر شدید تشدد کے نشانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انہیں حراست کے دوران غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔

35 سالہ ڈرائیور کریم جان، ساکن تربت، کو 3 جنوری 2026 کو اسٹار پلس مارکیٹ، تربت سے سادھا لباس ہلکاروں نے حراست میں لیا۔

خاندان کو ان کی گرفتاری یا مقامِ حراست کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔تقریباً ایک ماہ بعد 1 فروری 2026 کو ان کی تشدد زدہ لاش بالگتھر، پنجگور سے برآمد ہوئی۔

بی وائی سی کے مطابق کریم جان ایک عام شہری تھے، اور ان کی ہلاکت بلوچستان میں جبری گمشدگی کے بعد قتل کی جاری پالیسی کی واضح مثال ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے چاروں واقعات کو بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگیاں، غیرقانونی حراست، تشدد، اور ماورائے عدالت قتل ایک منظم پالیسی کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جن سے عام شہری، کسان، مزدور اور نوجوان سب متاثر ہو رہے ہیں۔

بی وائی سی کے مطابق یہ اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین، بشمول آرٹیکل 6 اور 9 (ICCPR) اور آرٹیکل 33 (چوتھا جنیوا کنونشن) کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کی آزادانہ تحقیقات کرائیں۔ ماورائے عدالت قتل کے ذمہ داروں کو جوابدہ بنائیں۔ متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانے میں کردار ادا کریں۔

بی وائی سی کے مطابق عالمی خاموشی ان واقعات کے تسلسل کو مزید تقویت دیتی ہے۔

Share This Article