انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اپنے ایک حالیہ بیان میں پاکستان کی جانب سے افغانستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے کہا ہے کہ ’انڈیا رمضان کے مقدس مہینے کے دوران افغان سرزمین پر پاکستان کے اُن فضائی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ پاکستان کی جانب سے اپنی اندرونی ناکامیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی ایک اور کوشش ہے۔‘
انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’انڈیا افغانستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔‘
واضح رہے کہ سنیچر کی شب پاکستان کی وزاتِ اطلاعات کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ ’پاکستان نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کارروائی کے دوران پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادی دولتِ اسلامیہ خراسان سے وابستہ شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘
جس کے بعد افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان فوج پر افغانستان کی سرحد کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ’ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔‘
طالبان حکومت کی وزارت دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے ننگرہار اور پکتیکا کے ’شہری علاقوں‘ میں پاکستان کی جانب سے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’مناسب وقت‘ پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا۔