حب ، کوئٹہ اور پنجگورسے پاکستانی فورسز نے متعدد افراد جبری لاپتہ کردیئے

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستانی فورسز نے گذشتہ دنوں بلوچستان کے علاقوں حب چوکی ، کوئٹہ اور پنجگور سے متعددافراد کو حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایاجس میں ایک ہی خاندان کے متعدد درجن بھر افراد بھی شامل ہیں۔

صنعتی شہر حب چوکی سے اطلاعات ہیں کہ 8 فروری 2026 کی شب کو فورسز نے گلشن امیر آباد میں چھاپہ مارا جہاں  کئی افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ چھاپے کے دوران عبدالرب ولد جمعہ، محمد رحیم ولد جمعہ، عبدالرازق ولد جمعہ اور عبدالمالک ولد جمعہ کو اپنے ساتھ لے جایا گیا۔

بتایا جاتا ہے کہ یہ چاروں آپس میں بھائی ہیں اور ان کا تعلق مشکے نوکجو سے ہے۔

خاندان کے مطابق عبدالرب کے بیٹے شاہ زیب، محمد رحیم کے بیٹے جہانگیر، عبدالرازق کے بیٹے نوروز اور شاہ میر کو بھی حراست میں لیا گیا۔ اس کے علاوہ داد شاہ ولد فضل کریم کو بھی ساتھ لے گئے ہیں۔

اہلِ خانہ نے الزام لگایا ہے کہ کارروائی کے دوران خواتین اور بچوں پر تشدد کیا گیا۔

متاثرہ خاندان کے مطابق فضل کریم، جو کہ سرکاری ملازم اور پولیس سے وابستہ بتائے جاتے ہیں کو ضلع خضدار سے اغوا کیا گیا۔ ان کے بیٹے نواز کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے کہ وہ سرکاری ملازم ہیں اور انہیں بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

اسی طرح داد شاہ ولد فضل کریم کو حب چوکی سے لے جانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ سے 2 نوجوانوں کی جبری لاپتہ کئے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

اس سلسلے میں نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے جاری بیان میں کہا ہے کہ نیشنل پارٹی تحصیل سریاب کے نائب صدر آغا محمد شاہ کے دو بھتیجوں آغا شاہد علی اور آغا لال شاہ کو گزشتہ رات سیکورٹی فورسز نے ماورائے قانون گرفتار نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا اور خاندان کو ان کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا جو کہ انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی ایسے ماورائے آئین و قانون اقدامات کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ متعلقہ نوجوان سریاب کے معزز گھرانے و خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اگر وہ قانون کو مطلوب تھے بھی تو خاندان کو آگاہ کیا جاتا ہے اور ان کی گرفتاری کو قانون کے مطابق کی جاتی لیکن افسوس ہے کہ ایسا نہیں ہوا جو لمحہ فکریہ ہے ۔

بیان میں کہا گیا کہ خاندان کی مشکلات و پریشانی کو ختم کرتے ہوئے آغا شاہد علی اور آغا لال شاہ کو فوری و محفوظ طور پر بازیاب کیا جائے۔

اسی طرح پنجگور کے علاقے تسپ بازارسے ایک نوجوان کو جبری لاپتہ کیا گیا ہے۔

لاپتہ کئے گئے نوجوان کی شناخت ذوالفقار ولد حمید کے نام سے ہوگئی ہے ۔

علاقائی ذرائع بتاتے ہیں کہ گذشتہ روز 13 فروری کو پنجگور کے علاقے تسپ کے بازار سے مسلح افراد نے مذکور ہ نوجوان کو حراست میں لیا اور اپنے ساتھ لے گئے۔

علاقائی ذرائع کے مطابق اغواکاروں کا تعلق ریاستی حمایت یافتہ ملیشیا جسے مقامی لوگ ڈیتھ اسکواڈ کہتے ہیں ،سے تھا۔

واقعہ کے بعد نوجوان کی کوئی خبر نہیں ہے۔

اہلخانہ نے ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ایک ہفتے مکران کے مختلف علاقوں سے متعددنوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جو ریاستی فورسزاور ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں ماورائے آئین و قانون گرفتاری و لاپتہ ہونے کے بعد انہیں قتل کیا گیا تھا۔  

Share This Article