بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6075ویں روز بھی جاری رہا۔
اس دوران مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔
شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جبری گمشدگیوں کے فوری خاتمہ اور لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنانے میں اپنی کردار ادا کرے۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے صحافیوں کو بریفنگ کے دوران یہ اقرار کیا کہ ایک ہفتہ کے دوران بلوچستان میں سو سے زائد افراد کو ملکی اداروں نے حراست میں لے لیا ہے۔ لیکن ان گرفتار شدہ افراد کو نہ کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کے خاندانوں کو ان کی خیریت کے بارے معلومات فراہم کیا جارہا ہے، جس کی وجہ سے ان کے خاندان شدید ذہنی دبائو کے شکار ہیں۔
نصراللہ بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر ان گرفتار افراد میں جن پر کوئی الزام ہے تو ان کو فوری طور پر منظر عام پر لاکر عدالتوں میں پیش کیا جائے، اور ان میں جو بےقصور ہے تو ان کی رہائی کو یقینی بناکر ان کے خاندانوں کو اذیت سے نجات دلائی جائے۔