بلوچستان لبریشن فرنٹ ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں چاغی، نال اور جھاؤ حملوں میں، 7 اہلکاروں کی ہلاکت، پولیس چیک پوسٹ اور سرکاری گاڑیاں نذرِ آتش کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 4 فروری کو چاغی کے علاقے شعبیان میں سیندک پروجیکٹ سے وابستہ دشتکین کمپنی کی سیکیورٹی فورسز کے چار گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا۔ حملے کے نتیجے میں قافلے کی ایک گاڑی تباہ ہو گئی، جس کے باعث دو اہلکار ہلاک اور تین شدید زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ سرمچاروں نے 5 فروری کو نال میں ایک پولیس چیک پوسٹ کا محاصرہ کیا اور 7 اہلکاروں کو حراست میں لیا، جنہیں ابتدائی تفتیش کے بعد رہا کر دیا گیا، جبکہ چیک پوسٹ اور سرکاری گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔ یہ چیک پوسٹ علاقے میں سرمچاروں کی نقل و حرکت کی نگرانی اور تیل کے کاروبار سے منسلک گاڑیوں اور مالکان سے بھتہ وصول کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے 7 فروری کو جھاؤ کے علاقے ارہ میں آواران بیلہ مرکزی شاہراہ پر گھات لگا کر قابض پاکستانی فوج کے پیدل دستے اور دو گاڑیوں پر مشتمل نفری کو بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ حملے کے نتیجے میں پانچ اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ چاغی، نال اور جھاؤ میں ہونے والے حملوں میں 7 اہلکاروں کی ہلاکت اور پولیس چیک پوسٹ اور سرکاری گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔