بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیرِ اہتمام قائم احتجاجی کیمپ کوئٹہ کی شدید سردی اور بارش کے باوجود تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6074ویں روز میں داخل ہو گیا۔
اس موقع پر نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے مکمل خاتمے اور لاپتہ افراد کی بازیابی تک ان کی پرامن اور آئینی جدوجہد جاری رہے گی۔
احتجاج کے دوران جبری لاپتہ عبدالفتع بنگلزئی کے لواحقین نے وی بی ایم پی سے رابطہ کرتے ہوئے بتایا کہ عبدالفتع ولد رسول بخش کو 23 مئی 2014 کو مستونگ کے علاقے اسپیلنجی سے سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کیا۔ لواحقین کے مطابق جبری گمشدگیوں کے کمیشن نے اس کیس میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ عبدالفتع کو ریاستی اداروں نے حراست میں لیا تھا، اور 2022 میں کمیشن کی جانب سے ان کے حوالے سے پروڈکشن آرڈر بھی جاری کیا گیا، تاہم تاحال نہ انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی اہلِ خانہ کو ان کی خیریت سے متعلق کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
نصراللہ بلوچ نے کہا کہ کمیشن کی سطح پر اب تک سات سو سے زائد پروڈکشن آرڈرز جاری ہو چکے ہیں، مگر ان پر حکومتی سطح پر عمل درآمد کو یقینی نہیں بنایا جا رہا۔ ان کے مطابق وی بی ایم پی نے اس معاملے پر سپریم کورٹ میں تحریری شکایت بھی جمع کرائی تھی، جہاں سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ پروڈکشن آرڈرز پر عمل ہوگا، تاہم ایک سال گزرنے کے باوجود پیش رفت نہیں ہو سکی۔
انہوں نے حکومت اور اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ عبدالفتع بنگلزئی سمیت دیگر جبری لاپتہ افراد کے حوالے سے جاری پروڈکشن آرڈرز پر فوری عمل درآمد کرایا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو طویل اذیت سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کیا جائے۔