بلوچستان کا مسئلہ اب پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ چکا ہے،اختر مینگل

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

پاکستان کے شہر لاہور میں گذشتہ روز عاصمہ جہانگیر کانفرنس 2026ءمیں بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے بلوچستان کی مجموعی سیاسی، سماجی اور سیکیورٹی صورتحال پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 27 مارچ 1948ءمیں خان آف قلات اور محمد علی جناح کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا، جس کی کچھ خاص شق یہ ہیں کہ بلوچستان بطور خود مختار ریاست ہوگا، صرف دفاع، کمیونیکیشن، کرنسی اور خارجہ پالیسی وفاق کے پاس رہے گی، لیکن اس معاہدے کی کبھی پاسداری نہیں کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان 14 اگست کے بجائے 15 اگست 1947ءکو بنا اور یہ معاہدہ 9 مہینے بعد ہوا، اس 9 مہینے تک بلوچستان ایک آزاد ریاست تھا لیکن یہ بات اب کسی پاکستانی دانشور یا کتاب میں نہیں پڑھیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک ملک اپنا تاریخ پیدائش چھپائے تو اس سے کیاامید رکھی جاسکتی ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ بلوچستان جل نہیں رہا بلکہ جل کر راکھ ہو چکا ہے۔

اختر مینگل نے پاکستان کے وفاقی حکومت کے مشیر رانا ثناء اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو مجھے لٹکا دیں”۔

ان کا کہنا تھا کہ جن افراد کو ریاست اور بعض حلقے دہشت گرد قرار دیتے ہیں، زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ “لوگ ان کے ماتھے چوم رہے ہیں، انہیں گلے لگا رہے ہیں اور ان کے ساتھ سیلفیاں بنا رہے ہیں”۔

انہوں نے اہلِ پنجاب سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ جن علاقوں میں سیکیورٹی فورسز جاتی ہیں وہاں لوگ گھروں سے باہر نکلنے سے خوفزدہ ہوتے ہیں، بزرگ اپنے بچوں کو چھپاتے ہیں اور مکمل خوف کا ماحول ہوتا ہے، جب کہ انہی علاقوں میں جب وزراء، گورنرز یا اراکینِ اسمبلی جاتے ہیں تو عوام ان کے ساتھ نہ سیلفیاں بناتے ہیں اور نہ ہی انہیں قبولیت حاصل ہوتی ہے۔

سردار اختر جان مینگل کا کہنا تھا کہ “پنجاب مانے یا نہ مانے، جن کے ساتھ لوگ سیلفیاں بنا رہے ہیں، وہ انہیں اپنا مسیحا سمجھتے ہیں”۔

انہوں نے ریاستی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ “میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کی طرح سلطان راہی کے لہجے میں یہ نہیں کہوں گا کہ ہم نے ان کی کمر توڑ دی ہے، حقیقت یہ ہے کہ ان کی نہیں بلکہ بلوچستان میں ریاست کی کمر ٹوٹی ہے”۔

بی این پی کے سربراہ نے مزید کہا کہ بلوچستان میں عام لوگ سیکیورٹی اداروں سے تنگ آ چکے ہیں، جب کہ بلوچ سرمچاروں کی عوامی پذیرائی ایک زمینی حقیقت ہے۔

ان کا دعویٰ تھا کہ آئے روز سوشل میڈیا اور مختلف ویڈیوز میں بلوچ مائیں، بہنیں، بزرگ اور بچے سرمچاروں سے محبت اور اپنائیت کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں جو موجودہ صورت حال کا واضح ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ سیاسی مکالمے، عوامی اعتماد کی بحالی اور حقیقی جمہوری عمل میں ہے، بصورت دیگر صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

بی این پی کے سربراہ نے کہا کہ ایک ٹویٹ پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سترہ، سترہ سال کی سزا دی گئی، مگر ملک کو توڑنے اور لوٹنے والوں کو ایک دن کی سزا بھی نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اسلام آباد آئیں، مگر اس سردی میں ان کی میزبانی ٹھنڈا پانی پھینک کر کی گئی۔ بلوچستان میں ہونے والی زیادتیوں پر کسی کو احتجاج کا حق تک حاصل نہیں ہے۔

انہوں نے وفاقی وزیر رانا ثناءاللہ کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر اختر مینگل مسلح لوگوں کی ذمہ داری لے لیں تو مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ اس پر سردار اختر مینگل نے کہا، کیا میں بی ایل اے کا نمائندہ ہوں؟ ہمارے لوگوں نے پہلے بھی ذمہ داری لی—آغا عبدالکریم کی ذمہ داری لی گئی، نواب نوروز خان کی ذمہ داری لی گئی—ان کے ساتھ کیا ہوا؟

انہوں نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر سمیت کچھ لوگوں نے نواب اکبر بگٹی سے جا کر بات کی، اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ سزائے موت اور عمر قید۔

آخرمیں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ اب پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ چکا ہے۔

Share This Article