بلوچستان کے مختلف علاقوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پاکستانی فورسز نے 5 نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا ہے جبکہ 3 افراد کی بازیابی بھی سامنے آئی ہے۔
جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے گئے نوجوانوں کی شاخت ضلع گوادر جیونی سے سراج ولد غفور (طالب علم)۔ضلع گوادر جیونی سے زاہد ولد اعبدالرحمان ( ماہی گیر)۔ضلع آواران جھائو سے نادل علی ولدخیر محمد۔ضلع کیچ بلیدہ سے امداد ولد سعید احمد، سکنہ بالگتراور حب چوکی سے سہراب بلوچ ولد امین یعقوب، سکنہ دازین تمپ کے ناموں سے ہوگئی ہے۔
جبکہ بازیاب ہونے والے نوجوانوں کی شناخت طالب حسین ولد جان،اقبال بلوچ ولد میر خان اور عارف دشتی ولد میر محمد حسین کے ناموں سے ہوگئی ہے۔
تربت سے آمدہ اطلاعات کے مطابق شہر کے سلالہ بازار سے فورسز نے 6 فروری 2026 کو امداد ولد سعید احمد، سکنہ بالگتر کو حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔
اہلِ خانہ نے حکامِ بالا، عدلیہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ امداد کی فوری بازیابی کے لیے کردار ادا کیا جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر امداد پر کسی قسم کا الزام ہے تو انہیں جبری لاپتہ رکھنے کے بجائے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے اور شفاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اسی طرح حب چوکی سے دازین کے رہائشی کو پاکستانی فورسز نے تیسری مرتبہ جبری لاپتہ کر دیا۔
اطلاعات کے مطابق فورسز نے 8 فروری 2026 کو دن کے دو بجے حب چوکی کے علاقے بلوچ کالونی میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر ایک نوجوان کو حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کر دیا۔
لاپتہ کیے گئے نوجوان کی شناخت سہراب بلوچ ولد امین یعقوب، ساکن دازین تمپ کے نام سے ہوئی ہے۔
کہا جارہا ہے کہ سہراب بلوچ کو اس سے قبل 2017 میں بھی چار دن کے لیے جبری لاپتہ کیا گیا تھا، جبکہ 2019 میں انہیں دوبارہ اغواء کیا گیا اور وہ چالیس دن بعد بازیاب ہوئے تھے۔ گزشتہ روز انہیں تیسری مرتبہ حب چوکی سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔
اہلِ خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکامِ بالا اس واقعے کا فوری نوٹس لیں، سہراب بلوچ کی موجودہ حراست اور مقام کے بارے میں معلومات فراہم کریں، اور ان کی فوری و بحفاظت بازیابی کو یقینی بنائیں۔
ادھر ضلع گوادر کے علاقے جیونی سے فورسز نے سراج ولد غفور اور زاہد ولد عبدالرحمان کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا اب ان کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہیں۔
اسی طرح نادل علی ولدخیر محمد کو ضلع آواران کے علاقے جھائو سے فورسز نے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایاتھا جس کے حوالے سے اب کوئی خبر نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ کے ریکو سے جبری لاپتہ ہونے والا کمسن بچہ طالب حسین ولد جان بازیاب ہو گیا ہے۔
اہلِ خانہ نے طالب حسین کی بحفاظت واپسی کی تصدیق کر دی ہے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق طالب حسین اپنے گھر پہنچ گیا ہے اور اس کی طبیعت بہتر ہے۔
اہلِ خانہ نے بچے کی بازیابی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان تمام افراد اور اداروں کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے اس سلسلے میں تعاون کیا۔
دوسرے بازیاب ہونے والوں میں ضلع خضدار، کورسک کے رہائشی اقبال بلوچ ولد میر خان شامل ہیں جو 7 فروری کو چتکان بازار پنجگور سے بازیاب ہوئے ہیں جنہیں31 جنوری 26 20 کو لاپتہ کیا گیا تھا۔
اسی طرح عارف دشتی ولد میر محمد حسین ،سکنہ دشتی بازار تربت5 فروری کو پولیس اسٹیشن تربت سے بازیاب ہوئے جنہیں 30 جنوری 2026 کو لاپتہ کیا گیا تھا۔