نوشکی میں گھروں کو بموں سے اڑانا بدترین اجتماعی سزا اور ریاستی بزدلی کا اظہار ہے، بلوچ وائس فار جسٹس

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

بلوچستان میں ہیومن رائٹس کے حوالے سے سرگرم تنظیم بلوچ وائس فار جسٹس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نوشکی میں گھروں کو بموں سے اڑانا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی، اجتماعی سزا کی بدترین صورت اور ریاستی بزدلی و بے بسی کا واضح اظہار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست اور اس کے ادارے، بالخصوص سرفراز بگٹی، پنجاب سے لائے گئے افسران، کور کمانڈر، آئی جی ایف سی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری حمزہ شفقات اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورائیہ، جس انداز میں بلوچستان میں نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی کے تحت بلوچ قوم کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیے ہوئے ہیں، اس سے یہ حقیقت پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ پنجابی قابض فوج اور حکمران نسلی بنیادوں پر بلوچ قوم اور اس کے نوجوانوں کے خلاف جبر و تشدد کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ دنیا کے مروجہ جنگی اصولوں کے مطابق بلوچ قوم کو دہشت گرد قرار دینا مضحکہ خیز اور حقائق کے منافی ہے کیونکہ بلوچ نہ تو حملہ آور ہیں اور نہ ہی قابض بلکہ وہ ایک دفاعی جنگ لڑ رہے ہیں۔ پنجابی قابض فوج نے 27 مارچ 1948 کو بزورِ طاقت بلوچستان پر قبضہ کیا اور دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی قوم نے جارحیت کو کبھی قبول نہیں کیا اور نہ ہی کسی قابض و غاصب کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچ قومی تحریک جنگی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے دائرۂ کار میں رہ کر اپنی سرزمین پر جبری قبضے کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے کیونکہ پاکستانی فوج نے سیاسی، قانونی اور انسانی حقوق کے تمام پرامن راستوں کو طاقت کے بل پر کچل دیا ہے۔ بلوچستان میں جاری خونریزی کی تمام تر ذمہ داری پنجابی فوج پر عائد ہوتی ہے۔

بلوچ وائس فار جسٹس کے مطابق بلوچ اگر امریکا کی جنگِ آزادی، آئرلینڈ کی تحریکِ آزادی اور انقلابِ فرانس کو درست اور جائز تسلیم کیا جاتا ہے تو پھر دنیا کی طاقتوں یا اقوامِ متحدہ کے پاس کوئی اخلاقی جواز باقی نہیں رہتا کہ وہ بلوچ قومی تحریک کو دہشت گردی کے زمرے میں ڈالیں۔ جب عالمی طاقتیں، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوامِ متحدہ بلوچستان میں پاکستانی فوج کے جبر، بلوچ نسل کشی، جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کو روکنے میں ناکام ہیں تو محض اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے کسی قوم کو دہشت گردوں کی صف میں کھڑا کرنا ناانصافی اور اخلاقی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ دنیا کی متعدد اقوام نے نوآبادیاتی قبضے، سیاسی جبر اور معاشی استحصال کے خلاف مزاحمت کی جنہیں بعد ازاں عالمی طاقتوں نے نہ صرف تسلیم کیا بلکہ انہیں آزادی، انصاف اور حقِ خود ارادیت کی علامت بھی قرار دیا۔ امریکا کی جنگِ آزادی (1775–1783) برطانوی سامراج کے خلاف ایک منظم قومی جدوجہد تھی، جسے ابتدا میں بغاوت کہا گیا مگر آج وہی جدوجہد ایک آزاد ریاست کے قیام اور قومی خودمختاری کی روشن مثال سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح آئرلینڈ کی تحریکِ آزادی صدیوں پر محیط برطانوی تسلط، سیاسی محرومی اور ثقافتی جبر کے خلاف ایک مسلسل مزاحمت تھی۔ آئرش عوام کی اس جدوجہد کو اپنے دور میں تشدد اور ریاست دشمنی کے الزامات کا سامنا رہا، مگر وقت نے ثابت کیا کہ وہ ایک جائز قومی تحریک تھی جس کے نتیجے میں آئرلینڈ ایک خودمختار ریاست کے طور پر ابھرا۔ انقلابِ فرانس (1789) بھی عوامی بغاوت کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں بادشاہت، طبقاتی استحصال اور مطلق العنان اقتدار کے خلاف اٹھنے والی تحریک نے آزادی، مساوات اور اخوت جیسے اصولوں کو جنم دیا۔ یہی اصول بعد ازاں عالمی انسانی حقوق کے تصور کی بنیاد بنے اور آج اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور میں انہی اقدار کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اسی تسلسل میں الجزائر، ویتنام، جنوبی افریقہ اور دیگر خطوں کی تحریکات بھی شامل ہیں، جنہیں ابتدا میں دہشت گردی اور بغاوت کہا گیا مگر بعد ازاں عالمی برادری نے انہیں نوآبادیاتی غلامی کے خلاف جائز مزاحمت تسلیم کیا۔ یہ تاریخی مثالیں اس امر کو واضح کرتی ہیں کہ کسی تحریک کو دہشت گرد یا آزادی کی جدوجہد قرار دینا اصولوں سے زیادہ طاقت اور مفادات کا کھیل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 1 واضح طور پر اقوام کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کرتا ہے جبکہ آرٹیکل 55 میں سیاسی، معاشی اور سماجی انصاف کی ضمانت دی گئی ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق اور بین الاقوامی عہدنامہ برائے معاشی، سماجی و ثقافتی حقوق کے آرٹیکل 1 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ تمام اقوام کو حقِ خود ارادیت حاصل ہے اور وہ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کی مجاز ہیں۔ اس تناظر میں اگر عالمی طاقتیں اور اقوامِ متحدہ خود اپنے تسلیم شدہ اصولوں پر قائم رہیں تو انہیں بلوچ قوم کے حقِ خود ارادیت، سیاسی آزادی اور انسانی وقار سے انکار کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز حاصل نہیں رہتا۔ کسی قوم کی جائز مزاحمت کو دہشت گردی سے تعبیر کرنا نہ صرف تاریخی حقائق کا انکار ہے بلکہ اقوامِ متحدہ کے اپنے منشور اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں انحراف ہے۔

Share This Article