ایران سے تعلق رکھنے والی نوبل امن انعام یافتہ نرگس محمدی کے وکیل کا کہنا ہے کہ انھیں ایران کی ایک عدالت نے مزید ساڑھے سات سال قید کی سزا سنائی ہے۔
مصطفی نیلی نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں بتایا ہے کہ شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد کی ایک عدالت نے انسانی حقوق کی کارکن کو ’غیر قانونی اجتماع اور ملی بھگت‘ کے جرم میں چھ سال اور ’پروپیگنڈا سرگرمیوں‘ کے لیے ڈیڑھ سال قید کی سزا سنائی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق نرگس محمدی کو دسمبر میں ایک تقریب میں ’اشتعال انگیز تقریر‘ کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ نرگس محمدی کے اہل خانہ نے بتایا کہ گرفتاری کے دوران مار پیٹ کے بعد انھیں ہسپتال لے جایا گیا۔
53 سالہ نرگس محمدی کو 2023 میں ایران میں خواتین پر ظلم کے خلاف آواز اٹھانے پر نوبل انعام دیا گیا تھا۔
نرگس فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ اس تازہ ترین سزا کے بعد انھیں کُل 44 سال جیل میں گزارنے کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ محمدی پہلے ہی اپنی زندگی کے 10 سال سے زیادہ عرصہ جیل میں گزار چکی ہیں۔
وہ 2021 سے ’ریاست کے خلاف پروپیگنڈہ سرگرمی‘ اور ’ریاست کی سلامتی کے خلاف ملی بھگت‘ کے الزام میں 13 سال کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ نرگس خود پر لگے الزامات سے انکار کرتی ہیں۔
انھیں طبی بنیادوں پر دسمبر 2024 میں تہران کی بدنام زمانہ ایون جیل سے تین ہفتوں کے لیے عارضی رہائی دی گئی تھی۔