بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی ) کے مطابق بلوچستان کے علاقے نوشکی میں ریاستی کارروائیوں کے دوران تین مختلف واقعات میں ایک کم سن بچہ، ایک طالب علم اور ایک بزرگ شہری ہلاک ہوگئے، جس سے علاقے میں خوف اور عدم تحفظ کی فضا مزید گہری ہوگئی ہے۔
بی وائی سی کے مطابق 2 فروری 2026 کو نوشکی کے علاقے کلی جمالدینی میں پاکستانی فوج کے مبینہ ڈرون حملے میں تین سالہ دیدگ بلوچ ہلاک ہوا۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب علاقہ رہائشی سرگرمیوں سے معمول کے مطابق مصروف تھا۔بی وائی سی نے اسے "معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کی بڑھتی ہوئی پالیسی” قرار دیا اور کہا کہ بلوچستان کو جنگی زون میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
بی وائی سی کے مطابق 3 فروری 2026 کو کلی قاضی آباد، نوشکی میں 60 سالہ بابو عطا محمد بدینی کو پاکستانی فوج کی براہِ راست فائرنگ کے نتیجے میں قتل کیا گیا۔ کمیٹی نے اس واقعے کو "ریاستی اداروں کی جانب سے اختیار کردہ مسلسل اور منظم پالیسی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں شہریوں کی جان و مال کسی بھی طرح محفوظ نہیں رہی۔
اسی روز نوشکی بازار میں 12 سالہ طالب علم شہزاد احمد فائرنگ کے ایک اور واقعے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔بی وائی سی کے مطابق شہزاد ایک عام طالب علم تھا جو اپنے گھر اور محلے کے ماحول میں محفوظ ہونا چاہیے تھا، مگر ریاستی فورسز کی فائرنگ نے اس کی زندگی چھین لی۔
کمیٹی نے کہا کہ یہ واقعہ بلوچستان میں بچوں کی عدم تحفظ کی سنگین صورتحال کو بے نقاب کرتا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے تینوں واقعات کو بلوچستان میں "بڑھتے ہوئے ریاستی تشدد اور عدم احتساب” کی علامت قرار دیتے ہوئے عالمی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔
بی وائی سی کے مطابق بلوچستان مکمل میڈیا بلیک آؤٹ کا شکار ہے، جس کے باعث زمینی حقائق دنیا تک نہیں پہنچ پاتے۔