حلقہ پی بی 21 حب کیس: علی حسن زہری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار، صالح بھوتانی کامیاب

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 21 حب سے متعلق انتخابی عذرداری کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے بلوچستان عوامی (با پ) پارٹی کے امیدوار محمد صالح بھوتانی کی درخواست منظور کرتے ہوئے انھیں کامیاب قرار دیا ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار علی حسن زہری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا ہے۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس ارشد حسین شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے 29 جنوری کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔ اس فیصلے کے تحت بلوچستان ہائی کورٹ کا 20 دسمبر 2024 اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کا 16 دسمبر 2024 کا فیصلہ ختم کر دیا گیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ الیکشن کمیشن کا اقدام سپریم کورٹ کے 20 نومبر 2024 کے حکم کی صریح خلاف ورزی تھا، کیونکہ سپریم کورٹ فریقین کی رضامندی سے تمام سابقہ کارروائیاں منسوخ کر چکی تھی۔ اس لیے الیکشن کمیشن پرانی گنتی کے نتائج پر دوبارہ انحصار نہیں کر سکتا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ دوبارہ گنتی کا حکم صرف ٹھوس شواہد اور بے ضابطگیوں کے ثبوت کی بنیاد پر ہی دیا جا سکتا ہے۔

فیصلے کے مطابق الیکشن کمیشن 39 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ گنتی کی درخواستوں کا نئے سرے سے جائزہ لے گا اور یہ عمل سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں دو ماہ کے اندر مکمل کیا جائے گا۔ ان نئے فیصلوں تک محمد صالح بھوتانی کی کامیابی برقرار رہے گی۔

واضح رہے کہ علی حسن زہری کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا، جسے صالح بھوتانی نے چیلنج کیا۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے علی حسن زہری کو کامیاب قرار دیا تھا، تاہم وفاقی آئینی عدالت نے اب وہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔

یاد رہے کہ عدالتی فیصلے سے قبل علی حسن زہری جو بلوچستان حکومت میں زراعت کے وزیر تھے نے استعفیٰ دیا تھا ۔

Share This Article