بلوچ لبریشن آرمی ( بی ایل اے) کے ترجمان جیئند بلوچ نے آپریشن ہیروف2 کی تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے میڈیا جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آپریشن ھیروف فیز ٹو چوتھے روز میں داخل ہوچکا ہے ، متعدد محاذوں پر کنٹرول تاحال برقرار ہے ۔
ترجمان نے کہا کہ آپریشن ھیروف فیز ٹو چوتھے روز میں داخل ہوچکا ہے اور اب تک بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ نوشکی شہر سمیت متعدد مقامات پر بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچار مضبوط پوزیشنوں پر قابض ہیں اور کنٹرول بدستور برقرار ہے۔ زمینی صورتحال کے مطابق قابض فورسز کو مختلف محاذوں پر شدید دباؤ، پسپائی اور بدحواسی کا سامنا ہے، جبکہ بلوچ سرمچار مسلسل مزاحمت کے ذریعے دشمن کی عسکری پیش قدمی کو ناکام بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی اور محتاط اندازوں کے مطابق اب تک قابض پاکستانی فوج، ایف سی، پولیس، سی ٹی ڈی اور فوج کے زیرِ سرپرستی قائم ڈیتھ اسکواڈ کے تقریباً280 اہلکار اور کارندے ہلاک کیئے جاچکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار حتمی نہیں ہیں اور زمینی حالات کے پیش نظر دشمن کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصانات میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ دشمن کے نقصانات کی مکمل اور حتمی تفصیلات مرتب کرنے کے بعد مناسب وقت پر میڈیا میں شائع کی جائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ آپریشن ھیروف کے دوران اب تک بلوچ لبریشن آرمی کے 35 سرمچار شہادت کے مرتبے پر فائز ہوچکے ہیں، جن میں ا18 مجید بریگیڈ کے فدائین، 10 فتح اسکواڈ اور7 ایس ٹی او ایس یونٹ کے سرمچار شامل ہیں۔ شہداء سے متعلق تفصیلی اور حتمی معلومات بعد میں باقاعدہ طور پر جاری کی جائیں گی۔
بیان میں کہا گیا کہ میدانِ جنگ میں پاکستانی فوج بلوچ سرمچاروں کے ساتھ دو بدو لڑائی میں مکمل شکست سے دوچار ہوچکی ہے۔ اپنی عسکری ناکامیوں کا غصہ چھپانے کیلئے قابض پاکستانی فوج نے بلوچ سول آبادیوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے اور ڈرون حملوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شیلنگ کی جارہی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد بے گناہ عام شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ یہ کارروائیاں دشمن کی اخلاقی، عسکری اور سیاسی دیوالیہ پن کی واضح عکاس ہیں۔