پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں حالیہ حملوں کے دوران 177 عسکریت ہلاک ہوئے جبکہ فورسز کے 17 اہلکار مارے گئے، جن میں 10 پولیس، 6 ایف سی اور ایک لیویز اہلکار شامل تھا۔
انھوں نے یہ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ہرنائی اور پنجگور میں پہلے 48 گھنٹوں کے دوران تین درجن سے زائد عسکریت پسند مارے گئے اور کئی گرفتار بھی ہوئے جن سے اسلحہ برآمد کیا گیا۔
جبکہ دوسری دوسری جانب بی ایل اے کا دعویٰ ہے کہ اس کے حملوں میں اب تک ابتدائی اور محتاط اندازے مطابق 280 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جن میں پاکستانی فوج، ایف سی، پولیس، سی ٹی ڈی اور فوج کے زیرِ سرپرستی قائم ڈیتھ اسکواڈ کےاہلکار اور کارندے شامل ہیں۔
وزیر مملکت نے دعویٰ کیا کہ گوادر اور مکران کے 33 مزدور قتل کیے گئے، جن کی خواتین قرآن پاک سر پر اٹھا کر دہائیاں دیتی رہیں کہ وہ بلوچ ہیں، مگر عسکریت پسندوں کے نزدیک نہ مذہب کی کوئی قدر ہے نہ لسانیت کی۔ ان کے مطابق بی ایل اے والے بغیر داڑھی کے لسانیت کے نام پر وہی کام کر رہے ہیں جو ٹی ٹی پی والے داڑھی میں مذہب کے نام پر کرتے ہیں۔
دوسری طرف عام لوگوں کی ہلاکت پر بی ایل اے کا کہناہے کہ گوادر میں خضدار سے تعلق رکھنے والے ایک فیملی کے 13 افراد کو پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے فائرنگ کرکے قتل کردیاتھا۔جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
نوشکی سے مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ نوشکی میں ایک مسافر گاڑی کو سیکورٹی فورسز نے نشانہ بنایاجس کے نتیجے میں 10 عام شہری ہلاک ہوگئے۔عام آبادی پر ہیلی کاپٹرسے شیلنگ اور ڈرون سے حملہ کیا جارہا ہے جس مزید ہلاکتیں ہوئی ہیں تاہم اسکی تعدادسامنے نہیں آسکی۔
طلال چوہدری نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کو اس وجہ سے بھی کچھ زیادہ وقت لگا کیونکہ یہعسکریت پسند عوام کے پیچھے چھپتے ہیں جن کے حقوق کو بنیاد بنا کر وہ کارروائیاں کرتے ہیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ انڈیا کے اس طرح کے معاملات میں ملوث ہونے کے کئی شواہد عالمی سطح پر پیش کیے گئے، جس کی بنیاد پر ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو دہشتگرد تنظیمیں قرار دیا گیا۔
ان کے مطابق دنیا کے تمام ممالک نے بلوچستان میں عسکریت پسندی کی مذمت کی ہے، سوائے انڈیا کے۔
وزیرِ مملکت نے مزید کہا کہ پاکستان میں لاپتا افراد کی تعداد ڈھائی ہزار سے بھی کم ہے، جو دنیا کے کسی بھی ملک سے کم ہے۔ ان کے مطابق یہ لوگ یا تو پہاڑوں پر چلے جاتے ہیں یا جرائم کی وجہ سے روپوش ہو جاتے ہیں۔
طلال چوہدری نے زور دیا کہ سکیورٹی فورسز کے پیچھے کھڑا ہونا ہوگا تاکہ عسکریت پسندی کے خلاف جنگ کو کامیاب بنایا جا سکے۔