پاکستان کی قومی اسمبلی میں بلوچستان حملوں کے خلاف قرارداد منظور

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کی قومی اسمبلی نے بلوچستان کے مختلف شہروں پر عسکریت پسندوں کے خلاف قرارداد منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ عسکریت پسند نیٹ ورکس خواتین کا استحصال کر کے انھیں ریاست اور معاشرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

منگل کے روز ایوان سے متفقہ طور پر منظور ہونے والی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’یہ ایوان بلوچستان میں حالیہ عسکریت پسندانہ واقعات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے جن میں نہ صرف معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور بلکہ خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کرنے جیسے گھناؤنے اور غیر انسانی حربے اپنائے گئے۔‘

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ عسکریت پسند نیٹ ورکس خواتین کے استحصال، زبردستی، ذہنی دباؤ اور بلیک میلنگ کے ذریعے انھیں ریاست اور معاشرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو اسلامی پاکستانی، اور بلوچ اقدار کے سراسر منافی ہے۔‘

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’شہری آبادی، خواتین اور بچوں پر حملے ناقابل معافی جرائم ہیں‘ اور ریاست سے ایسے عناصر کے خلاف عدم برداشت کے اصول کے تحت فیصلہ کن کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ متعدد واقعات میں بیرونی سرپرستی بالخصوص انڈیا کے کردار کے حوالے سے سنجيدہ خدشات پائے جاتے ہیں، جبکہ بعض ہمسایہ ممالک میں لاجسٹک اور آپریشنل سہولت کاری اور مالی معاونت اور تربیت کے ذریعے دہشت گردی کو تقویت دی جاتی ہے۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان بیرونی سپانسرز اور اندرونی سہولت کاروں کے خلاف فوری اور مربوط قومی رد عمل یقینی بنایا جائے ’جس میں سیاسی، سفارتی عسکری انٹیلی جنس، قانونی اور بیانیاتی محاذ یکجا ہوں۔‘

واضح رہے کہ سنیچر کے روز مسلح افراد نے کوئٹہ، مستونگ، قلات، نوشکی، خاران، دالبندین، تربت، تمپ، گوادر اور پسنی سمیت بعض دیگر علاقوں میں مختلف تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیرِ اعلیٰ کے مطابق ان حملوں میں مجموعی طور پر 31 شہری اور 17 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ ان کی جانب سے 145 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

Share This Article