بلوچ جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل: بی وائی سی کی سالانہ رپورٹ جاری، 1223 کیسز رپورٹ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے 2025 کے دوران بلوچستان اور ملحقہ علاقوں میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کی سالانہ رپورٹ جاری کردی ہے، جس میں مجموعی طور پر 1223 کیسز درج کیے گئے ہیں۔

عمر اور جنس کے اعتبار سے تفصیلات جاری کی گئی ہیں جس کے مطابق جبری گمشدگیوں میں مختلف عمر اور جنس کے افراد متاثر ہوئے۔

  • بالغ افراد (18 تا 60 سال): 411
  • کم عمر بچے: 75
  • خواتین: 18
  • بزرگ افراد: 2
  • نامعلوم عمر کے افراد: 735

رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ریاستی جبر صرف نوجوان مردوں تک محدود نہیں بلکہ خواتین، بچے اور بزرگ بھی اس عمل کا شکار ہیں۔

اضلاع کے اعتبار سے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے ہیں۔

  • کیچ: 339 گمشدگیاں، 66 قتل
  • آواران: 144 گمشدگیاں، 41 قتل
  • پنجگور، گوادر، خضدار، قلات، ڈیرہ بگٹی، کوئٹہ: ہر ضلع میں 70 سے زائد گمشدگیاں
  • ہرنائی: صرف 1 گمشدگی مگر 9 ماورائے عدالت قتل
  • کراچی، ڈی جی خان، جیکب آباد: بھی متاثرہ اضلاع میں شامل

مجموعی طور پر 188 ماورائے عدالت قتل رپورٹ ہوئے ہیں، جو ریاستی جبر کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رپورٹ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل نہ صرف بلوچستان بلکہ سندھ اور پنجاب کے سرحدی علاقوں تک پھیل چکے ہیں۔ یہ صورتحال انسانی حقوق کے حوالے سے شدید تشویش کا باعث ہے اور عالمی سطح پر فوری توجہ کی متقاضی ہے۔

Share This Article