پاکستان کی عسکری حکام کی ایما پر بلوچستان کی کٹھ پتلی حکومت نے بلوچ تحریک آزادی میں شامل افراد کے اہلِ خانہ کے خلاف سخت قانونی اور انتظامی کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اگر اہلِ خانہ اپنے رشتہ دار کی دہشت گردی میں شمولیت کی بروقت اطلاع نہ دیں یا اس سے باضابطہ لاتعلقی کا اعلان نہ کریں تو ان کے پاسپورٹ بلاک، بینک اکاؤنٹس منجمد، موبائل سم معطل، جائیداد کی خرید و فروخت پر پابندی، سرکاری معاہدوں کی منسوخی اور ملازمتوں کے خاتمے جیسے اقدامات کیے جائیں گے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ 31 جنوری کے حالیہ حملوں کے بعد 140 عسکریت پسندوں کی شناخت ہو چکی ہے، تاہم جو اہلِ خانہ رضاکارانہ طور پر اطلاع دے کر رسمی طور پر الگ ہو چکے ہیں، ان پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوگی۔
اس سلسلے میں محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کی جانب سے اخبارات میں اشتہارجاری کیا گیا ہے ۔
اشتہار میں کہا گیا ہے کہ عوام، والدین، اولاد، رشتہ داران، دوست احباب اور دیگر متعلقہ افرادکے لئے درج ذیل ہدایات جاری کی جاتی ہیں تاکہ ان پر سختی سے عمل کیا جائے۔یہ ہدایات ان تمام افراد کے لئے ہیںجن کے بچے یااہلخانہ گھر سے لاپتہ ہوجائیں۔یا کسی غیر ریاستی عناصر/گروہ میں شامل ہوجائیں۔
(1) اگر کوئی فرد گھر سے لاپتہ ہوجائے تو اس کی اطلاع قریبی پولیس اسٹیشن اور ایلیٹ فورس یونٹ کو ایک ہفتے کے اندر لازمی دی جائے۔
(2) ایسے افراد جو پہلے سے لاپتہ ہیں ان کی پہلے سے موجود معلومات فوری طور پر اور زیادہ سے زیادہ سات (07) دن کے اندر متعلقہ پولیس اسٹیشن اور انٹیلی جنس و سیکورٹی ایجنسی کو فراہم کی جائیں۔
(3) ایسے تمام افراد کے اہلخانہ ،سربراہ یا قانونی سرپرست جو کسی غیر ریاستی عناصر/دہشت گرد گروہ میں شامل ہو چکے ہوں، ان کے بارے میں علیحدگی یا عاق کرنے کا حلفیہ بیان ایک ہفتے کے اندر لازمی جمع کرائیں۔پہلے سے موجودہ کیسز کے لئے یہ بیان سات (07) دن کے اندر جمع کیا جائے۔
(4) اگر کوئی فرد لاپتہ رہ ہے اور اس کی اطلاع نہ دی جائے۔یا اسے عاق/علیحدہ نہ کیا جائےاور بعد میں اس کا تعلق کسی دہشت گردسرگرمی سے نکلے ۔ تو اس صورت میں خاندان کو اعانت کار/سہولت کار تصور کیا جائے گا۔اور نسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحتذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔اور ان کا نام فورتھ شیڈول میں بھی شامل کیا جائے گا۔
(5) ایسے سہولت کاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی،جن میں جائیداد ضبطی، سرکاری ملازمت سے برطرفی اور ریاست کی طرف سے ملنے والے ہر قسم کے مالی و فلاحی پیکجز سے محرومی شامل ہے۔