کوئٹہ پریس کلب میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے ہمراہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی حکومت کے خلاف اہم پریس کانفرنس کی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ساجد ترین ایڈووکیٹ نے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی جانب سے بی این پی کے قائد سردار اختر جان مینگل کے خلاف دیے گئے حالیہ بیانات کی شدید مذمت کی اور انہیں وزیراعلیٰ کی اپنی نااہلی چھپانے کی کوشش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سردار اختر جان مینگل کو اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ وہ بلوچستان کے حقیقی اور سنگین مسائل کو مسلسل اجاگر کر رہے ہیں، جس سے فارم 47 کے ذریعے آنے والے اراکینِ اسمبلی کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ وزیراعلیٰ وہی شخصیت ہیں جنہوں نے چند سال قبل بطور سینیٹر یہ بیان دیا تھا کہ اگر بلوچستان کے نوجوانوں کو ان کے حقوق نہ ملے تو وہ بندوق اٹھانے پر مجبور ہوں گے، تاہم آج وہی شخص اقتدار میں آ کر اپنے سابقہ مؤقف سے انحراف کر رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کی پالیسی ہمیشہ یہی رہی ہے کہ بندوق بلوچستان کا حل نہیں، چاہے وہ کسی بھی جانب سے اٹھائی جائے، کیونکہ تشدد کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان معصوم عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومتی پالیسیوں کے باعث بلوچستان کے نوجوانوں میں نفرت اور بے چینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
بی این پی کے سینئر نائب صدر نے اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں کٹھ پتلی حکومت اور فارم 47 کے ذریعے منتخب نمائندوں کو مسلط کرنے کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 8 فروری کے انتخابات سے قبل سردار اختر جان مینگل نے جن خدشات اور مسائل کی نشاندہی کی تھی، آج وہی حالات عملی صورت اختیار کر چکے ہیں، مگر اس وقت ان کی بات سننے کو کوئی تیار نہیں تھا۔
ساجد ترین ایڈووکیٹ نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان حکومت امن و امان کی بحالی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق جب صوبے کے 12 اضلاع حملوں کی زد میں تھے تو حکومتی رٹ کہیں نظر نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ فارم 47 کے ذریعے آنے والے نمائندے ایسے غیر مستحکم حالات میں اپنا سیاسی فائدہ دیکھتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ حالات معمول پر آنے کی صورت میں وہ بلدیاتی سطح کے انتخابات بھی نہیں جیت سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو امن سے زیادہ اپنی کرپشن کی فکر ہے، جبکہ بی این پی ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کرتی آئی ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی نوعیت کا ہے اور اس کا حل صرف سنجیدہ اور مؤثر مذاکرات میں ہی ممکن ہے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں مظلوم اقوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہے گی اور پریس کانفرنسز، جعلی مقدمات اور دیگر کارروائیاں پارٹی کو اس جدوجہد سے نہیں روک سکتیں۔
اس موقع پر بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ، مرکزی لیبر سیکرٹری موسیٰ بلوچ، مرکزی سیکرٹری انسانی حقوق احمد نواز بلوچ، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین اور ضلع کوئٹہ سمیت مختلف سطحوں کے پارٹی رہنما بڑی تعداد میں موجود تھے۔