تربت،کوئٹہ،حب اور گوادر سے پاکستانی فورسز نے 4 نوجوان جبری لاپتہ کردیئے

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچستان میں بی ایل اے کی آپریشن ہیروف 2 تاحال چند علاقوں میں جاری ہے تاہم جن علاقوں میں آپریشن کی تکمیل کا اعلان کیا گیا ہے وہاں سے پاکستانی فورسز نے گھروں پرچھاپہ مار کارروائیاں شروع کردی ہیں جس کے تحت لوگوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔

ہمیں ملنے والی اطلاعات کے مطابق تربت،کوئٹہ،حب اور گوادر سے فورسز نے 4 نوجوانوں حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے جس کے بعد ان کی کوئی خبر نہیں ہے۔

ضلع کیچ کے شہر تربت کے علاقے گوگدان میں ایف سی کی جانب سے ایک بار پھر علی فقیر سنگھور نامی شخص کے گھر پر چھاپہ مارے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

اہلِ خانہ کے مطابق رات گئے ہونے والے اس چھاپے کے دوران خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا گیا جب کہ گھر میں نصب سولر پلیٹ اور دیگر سامان کو نقصان پہنچایا گیا۔

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران ایف سی اہلکاروں نے علی فقیر سنگھور کے مرحوم بھائی مجاہد سنگھور کے گھر پر بھی چھاپہ مارا جہاں سے ان کے بیٹے رحمت مجاہد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

رحمت مجاہد یوسی کونسلر بھی ہیں۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے کے دوران علی فقیر سنگھور کے گھر پر یہ دوسرا چھاپہ بتایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی اہلِ خانہ کا کہنا تھا کہ رات گئے چھاپے کے دوران خواتین اور بچوں پر تشدد کیا گیا، گھر میں توڑ پھوڑ کی گئی اور ایک موٹر سائیکل بھی ساتھ لے گئے ۔

دوسری جانب کوئٹہ میں علی الصبح فورسز نے ایک طالب علم عمر بلوچ ولد عبدالرؤف کو برما ہوٹل سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

اسی طرح کراچی کے علاقے لیاری سے تعلق رکھنے والا 17 سالہ نوجوان محمد حسین ولد علی محمد کوحب چوکی بلوچستان کے قریب اس وقت جبری طور پر لاپتہ ہو گیا جب وہ مسافر بس کے ذریعے حب سے کراچی واپس آ رہا تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہےکہ فورسز نے اسے بس سے زبردستی اتار لیااوراپنے ساتھ لے گئےجس کے بعد اس کی کوئی خبر نہیں ہے۔

اہلِ خانہ کے مطابق محمد حسین کا مستقل پتہ لیاری، کراچی ہے اور واقعے کے بعد سے اس کے بارے میں کوئی اطلاع سامنے نہیں آ سکی۔

لواحقین نے کم عمر نوجوان کی جبری گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی اور متعلقہ اداروں سے فوری بازیابی اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

دریں اثنا سہرابی وارڈ گوادر کے رہائشی 25 سالہ نوجوان میران ولد اصغر کو آج صبح تقریباً ساڑھے نو بجے سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

ذرائع کے مطابق میران پیشے کے اعتبار سے دریا ورد (ماہی گیر) ہیں۔

گرفتاری کے بعد تاحال اہلِ خانہ کو نہ تو حراست کی وجوہات سے آگاہ کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کی موجودہ حالت یا مقام کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

لواحقین نے واقعے کے بعد وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) میں شکایت درج کرائی ہے۔

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی، جس کے باعث شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

لواحقین نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ میران کی گرفتاری کی وجوہات اور ان کی خیریت کے حوالے سے فوری طور پر معلومات فراہم کی جائیں۔

انسانی حقوق کے حلقوں نے جبری گمشدگیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حراست میں لیے گئے افراد کی فوری بازیابی اور قانونی کارروائی کو شفاف بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

Share This Article