بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیاں ایک منظم ریاستی منصوبے کا حصہ ہیں،گلزادی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیر رہنما گلزادی بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیاں کوئی حادثہ یا اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم اور سوچے سمجھے ریاستی منصوبے کا حصہ ہیں، جس کا مقصد بلوچ اقدار، ثقافت، روایات اور قومی حقوق کی جدوجہد کو کمزور کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کی بنیاد خوف ہےوہ خوف جو ریاست کو بلوچ خواتین کی سیاسی بصیرت، ان کی جرات اور ان کی فعال مزاحمت سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاست اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ جب کوئی عورت اپنے وجود، اپنی شناخت اور اپنے قومی کردار سے آگاہ ہو جاتی ہے اور اپنے لوگوں کے لیے قربانی دینے کا حوصلہ رکھتی ہے، تو اس کی مزاحمت صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتی۔ وہ آنے والی نسلوں کو شعور، ہمت اور اپنی سرزمین سے جڑے رہنے کا احساس منتقل کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست اسے خاموش کرنے، پس منظر میں دھکیلنے اور اس کے تاریخی و سماجی کردار سے کاٹنے کی کوشش کرتی ہے۔

گلزادی بلوچ نے کہا کہ بلوچ عورت کی آواز کو دبانے کی ہر کوشش دراصل اس اجتماعی طاقت کو روکنے کی کوشش ہے جو نسلوں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

Share This Article