پاکستان میں فوج اور اس کی کٹھ پتلی حکومتوں کیخلاف اختلافِ رائے کو جرم بنا دیا گیا ہے، رحیم بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ ( بی این ایم) کے رہنما رحیم بلوچ ایڈووکیٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں فوج اور اس کی کٹھ پتلی حکومتوں کے خلاف اختلافِ رائے اور تنقید کو جرم بنا دیا گیا ہے۔ قوانین، ضوابط، عدالتی طریقۂ کار اور عدالتیں پاکستان کی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیاں اپنی منتخب کردہ کٹھ پتلی حکومتوں کے ذریعے اس مقصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں کہ اختلافِ رائے رکھنے والوں کو ہراساں کیا جائے اور اگر وہ ان کی غیر انسانی پالیسیوں پر تنقید کرنے کی جرات کریں تو ان پر بے بنیاد اور طویل مقدمات مسلط کر دیے جائیں۔ ایڈووکیٹ ایمان زینب مزاری، ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ، ماہ رنگ بلوچ اور دیگر افراد کو سزائیں دینا اور قید کرنا اسی طرزِ عمل کی مثالیں ہیں۔

رحیم بلوچ ایڈووکیٹ نے کہا کہ پاکستان بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ٹارچر سیلز کو قانونی حیثیت دینے کے لیے قوانین بنا رہا ہے۔ گزشتہ سال مقبوضہ بلوچستان کی نام نہاد صوبائی اسمبلی نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 میں دو ترامیم منظور کیں، جن کے تحت سیکیورٹی فورسز کو محض شبہے کی بنیاد پر لوگوں کو اغوا کرنے نامعلوم مقامات پر حراست میں رکھنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کے اختیارات دیے گئے جنہیں خوشنما نام دے کر “ڈی ریڈیکلائزیشن سینٹرز” کہا جاتا ہے، اور انہیں بے چہرہ عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے جہاں نامعلوم جج مقدمات کی سماعت کرتے ہیں۔ ان مقدمات میں نامعلوم گواہوں کی گواہی پر انحصار کیا جاتا ہے اور ملزمان کو اپنی پسند کے وکیل کے ذریعے دفاع کا حق نہیں دیا جاتا۔

ان کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیوں، تشدد اور ماورائے عدالت قتل جیسے جرائم کے مرتکبین کو جوابدہ ٹھہرانے کے بجائے ان سیاہ قوانین اور غیر انسانی اقدامات کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو حکومت کی جانب سے من گھڑت جھوٹے اور فرضی مقدمات اور میڈیا پروپیگنڈے کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جبری گمشدگیوں کی پالیسی اور عمل ریاستی دہشت گردی اور فسطائیت کے مترادف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین اور یورپی حکومتوں کو پاکستان کے ساتھ معاشی، تجارتی اور عسکری پالیسی اور فیصلے کرتے وقت یا اس کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے میں داخل ہوتے وقت ان حقائق کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے۔

Share This Article