کوئٹہ، پنجگور و تربت میں سرکاری ملازمین کا احتجاجی مظاہرہ ،صحبت پور میں گرفتاریاں پیش

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان میں بھر میں سرکاری ملازمین اپنے جائز مطالبات کے حق میں گذشتہ ایک مہینے سے سراپااحتجاج ہیں ۔

ڈسپریٹی ریڈکشن الاؤنس اور دیگر مطالبات سمیت سرکاری ملازمین پر تشدد وگرفتاریوں کے خلاف آج بلوچستان گرینڈ الائنس کی جانب سے کوئٹہ ، تربت ، پنجگور اور صحبت پور میں سرکاری ملازمین نے ریلیاں نکالیں ، احتجاجی مظاہرے کئے جبکہ صحبت پور میں مظاہرین نے پولیس کو اپنی گرفتاریاں پیش کیں جس کے بعد انہیں لاک اپ کردیا گیا۔

گرینڈ الائنس کے مطالبات کی عدم منظوری اور ملازمین کی گرفتاریوں کیخلاف بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں خواتین اور بچے سڑکوں پر نکل آئے ۔

ڈسپریٹی ریڈکشن الاؤنس اور دیگر مطالبات کے لیے کوئٹہ کی مختلف شاہراہوں سے خواتین اور بچوں کی ریلی نکالی گئی۔

ریلی کے شرکاءنے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے دھرنا دیتے ہوئے گرفتار ملازمین کی فوری رہائی اور گرینڈ الائنس کے مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔

اسی طرح بلوچستان گرینڈ الائنس کی جانب سے ڈی آر اے سمیت دیگر مطالبات کے حق میں آل ملازمین اور خواتین ملازمین کی جانب سے صحبت پور میں احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

ریلی کا آغاز گورنمنٹ بوائز ہائیر سیکنڈری اسکول صحبت پور سے ہوا، جس میں مختلف سرکاری محکموں سے تعلق رکھنے والے ملازمین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

ریلی کے شرکاء کے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز تھے، جبکہ مظاہرین نے اپنے جائز مطالبات کے حق میں اور بلوچستان حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

ریلی شہر کے مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی پولیس تھانہ سٹی پہنچی، جہاں مظاہرہ کیا گیا اور دھرنا دیا گیا۔

احتجاج کے دوران گرینڈ الائنس کے ملازمین نے جیل بھرو تحریک کے تحت رضاکارانہ طور پر گرفتاریاں پیش کیں، جس کے بعد گرفتار ملازمین کو پولیس نے لاک اپ کر دیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک ان کے جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاجی تحریک جاری رکھی جائے گی۔

ادھر پنجگور میں بھی گرینڈ الائنس کی کال پر سرکاری اداروں میں ہڑتال جاری ہے جس کی وجہ سے بلوچستان حکومت کے ماتحت اداروں میں دفاتر کا بائیکاٹ جاری ہے۔

ہڑتال کے باعث محکمہ صحت کے مراکز بھی متاثر ٹیچنگ اسپتال میں او پی ڈیز کے بائیکاٹ کی وجہ سے دوردراز سے آنے والے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

تربت شہر میں بھی بلوچستان گرینڈ الائنس کے احتجاج میں ملازمین کے بچے اور خواتین بھی شامل ہوگئے۔

بڑی تعداد میں خواتین اور بچوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت سے گرفتار ملازمین کی رہائی اورڈی آر اے کی فوری منظوری کا مطالبہ کیا۔

Share This Article