بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے بلوچستان میں سال 2025 کے دوران انسانی حقوق کی سنگین صورتحال سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور ریاستی جبر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
کراچی پریس کلب کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی وائی سی کے نمائندوں سمی دین بلوچ اور دیگر نے کہا کہ آج بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے بلوچستان میں سال دو ہزار پچیس میں ہونے والے واقعات کا خلاصہ آپ کے سامنے پیش کیا رہا ہے ۔ یہ خلاصہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی انسانی حقوق کی سالانہ رپورٹ سے لیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے ہم پورے بلوچستان میں ہونے والے ہر ایک واقعے کو تو نہیں جان سکتے، مگر یہ ٹِپ آف دا آئس برگ ہے، جس کے ذریعے ہم بلوچستان میں ہونے والے مظالم کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بلوچستان کس طرح سے ایک میگا پرزن میں تبدیل کیا جا چکا ہے، بلکہ اس سے زیادہ بلوچستان ایک میگا ڈیتھ سیل میں کنورٹ کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ آج کے دن کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ بی وائی سی پچیس دسمبر کو بلوچ جینوسائڈ کا یادگاری دن سے متعارف کرچکی ہے۔ اس دن کو چودہ سال قبل توتک میں بلوچ فرزندوں کی اجتماعی قبریں ڈیتھ اسکواڈ کے کیمپوں سے دریافت ہوئیں، جن کی نہ ہی کوئی تفتیش کرائی گئی اور نہ ہی ان کی شناخت کرانے کی کوشش کی گئی۔بلوچستان میں پچھلے کئی سالوں سے نہ صرف جبری گمشدگیاں متواتر جاری ہیں بلکہ ان جبری گمشدہ افراد کی کبھی مسخ شدہ لاشیں پھینکی گئیں، تو کبھی ڈرل کی گئی یا تیزاب میں ڈوبی ہوئی لاشیں پھینکی گئیں۔ کبھی ہیلی کاپٹروں سے لاشیں پھینکی گئیں، تو کبھی اجتماعی قبروں میں لاشیں دفنائی گئیں، اور کبھی اسپتالوں میں لاوارث قرار دے کر پھینکی گئیں، اور خیراتی اداروں کے ہاتھوں قبرستانوں میں نامعلوم طور پر دفنایا گیا۔
بی وائی سی رہنمائوں کے مطابق بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ واحد مسئلہ نہیں ہے بلکہ ٹارگٹ کلنگ، صحت کی سہولیات کا فقدان، تعلیم کا فقدان، روڈ ایکسیڈنٹس کے اثرات، اور کینسر سے مرنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد جیسے کئی مسائل بھی شامل ہیں۔ اور یہ مسائل ہرگز محرومیوں کا نتیجہ نہیں یا ہم یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ بلوچستان میں گورننس سسٹم فیل ہے، بلکہ بلوچستان میں جو کچھ بھی کیا جا رہا ہے ایک منظم پالیسی کے تحت کیا تحت جارہا ہے، کیونکہ یہ جبر کا بوجھایک حکومت نے اپنے اوپر نہیں لیا ہر بدلتے حکومت نے بلوچستان کو ماسوائے درد و تکالیف کے کچھ نہیں دیا ہر آنے والی حکومت نے بلوچستان میں پچھلی حکومتوں کو ناقص قرار دیا، اور خود کی تعریفوں میں نہ صرف پل باندھے بلکہ لاکھوں روپے اپنی میڈیا کیمپین پر صرف کیے، تاکہ وہ خود کو مسیحا اور اپنی حکمرانی کو جابر قرار دے سکے اور اسی تسلسل نے ہی یہ بات عیاں کردی کہ جو بھی بلوچستان میں ہوا یا ہورہا ہے وہ ان منظم پالیسیوں کا نتیجہ ہے جنہیں بلوچ کو ختم کرنے کے لیے ترتیب دی جاچکی ہے ۔ بلوچستان میں دہائیوں سے حکومتیں ایک دوسرے کے سر پر الزامات ڈالتے گئے، مگر اس بیچ میں عوام مسلسل جنگ کا ایندھن بنی رہی۔
انہوں نے کہا کہ اس ریاست اور اس کے مافیا نما ادارے بلوچستان میں کبھی بھی کسی منظم، پُرامن سیاسی قوت کو ابھرنے نہیں دیتے۔ کہیں کسی تحریک کے رہنماؤں کو خرید کر کرپٹ بنایا گیا، تو کہیں رہنماؤں کو جبری گمشدہ کر کے قتل کر کے پھینکا گیا۔ کہیں انہیں جیلوں میں ڈالا گیا، کہیں انہیں ڈرا دھمکا کر یا ان کے گھر والوں کو ٹارگٹ کر کے خاموش کرایا گیا۔ کیونکہ یہ مافیاں ہیں، یہاں لوٹ کھسوٹ اور جنگی کاروبار کررہے ہیں اور یہاں سے روزانہ کے بنیاد پر اربوں روپے لوٹ کر لے جارہے ہیں۔ اور آج بھی صورتِ حال بدستور جاری ہے، جس میں بلوچ یکجہتی کمیٹی پر ہونے والا کریک ڈاؤن اور بیانیہ سازی دونوں شامل ہیں۔ آج بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پانچ رہنما، بشمول تنظیم کے مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ ، جیل میں بند ہیں، جبکہ میں اور باقی ساتھی مسلسل ہراسانی کا شکار ہیں، اور ساتھ ہی ساتھیوں کے گھر والوں کو بھی ہراساں کیا جا رہا ہے۔ بی وائی سی کے خلاف منظم انداز میں بیانیہ بھی تشکیل دیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں جو رپورٹ میں پیش کرنے والی ہوں، یہ بلوچستان کی مکمل صورتِ حال کو بیان نہیں کر سکتی، کیونکہ اس وقت پورے بلوچستان میں ایک کرفیو نما ماحول ہے۔ بلوچستان میں کوئی ایسی میڈیا موجود نہیں جو تمام ریجنز کو آپس میں کنیکٹ کر سکے۔ دوسری جانب، بلوچستان میں ماسوائے کوئٹہ، تربت، نوشکی، لسبیلہ اور دالبندین کے، کسی اور شہر میں موبائل ڈیٹا موجود نہیں، اس لیے معلومات تک رسائی حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے۔
پریس کانفرسنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ہر علاقے میں موجود منظم ڈیتھ اسکواڈز اور سیکیورٹی فورسز کسی بھی قسم کی معلومات کو باہر آنے نہیں دیتے، اور ہر اس شخص کو بدترین جبر کا نشانہ بنایا جاتا ہے جو اپنے اوپر ہونے والے مظالم کو دنیا کے سامنے لانے کی کوشش کرتا ہے۔ فورتھ شیڈول، تھری ایم پی او، اور اے ٹی اے جیسے قوانین کے ذریعے ان تمام افراد کو مسلسل خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو یا تو بلوچستان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں لوگوں کو مسلسل ایک دھمکی آمیز اور خوف کے ماحول میں رکھا جارہا ہے کہ لوگ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کو بیان نہیں کر سکتے ہیں۔
اسی لیے یہ رپورٹ ہرگز بھی مکمل نہیں ہے۔ یہ محض وہ کیسز ہیں جنہیں بی وائی سی کی انتھک محنت کے بعد جمع کیا جا سکا، اور ان کی مکمل آزاد ذرائع سے تصدیق کیا گیا ہے۔
سال 2025 میں بلوچستان میں انسانی حقوق کے پامالیوں کا ڈیٹا:
انہوں نے کہا کہ سال 2025 میں بلوچستان میں گزشتہ برسوں کے نسبت جبری گمشدگیوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔ اس سال 1223 بارہ سو تیئس افراد کے کیسسز رپورٹ ہوئے جو کہ اپنی حقیقی تعداد سے کم ہے۔ ان 1223 میں سے 348 افراد کو قلیل مدتی جبری گمشدگی کے بعد رہا کیا گیا جبکہ 832 اب بھی لاپتہ ہیں۔ ان جبری گمشدہ کئے افراد میں سے 43 کو پہلے جبری طور پر غائب کیا گیا اور پھر انہیں جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا یا تشدد بعد ویرانوں میں پھینک دیا گیا۔ ماہانہ حساب دیکھا جائے تو سب سے زیادہ کیسز مارچ کے مہینے میں ریکارڈ ہوئے ہے۔ جبری گمشدگیوں کے کیسسز بلوچستان کے ستائیں اضلاع میں واقع ہوتے رہے جن میں سب سے زیادہ متاثرین ضلع کیچ کے ہیں جن کی تعداد (339)، اس کے بعد آواران (114)، گوادر (91)، پنجگور (92)، ڈیرہ بگٹی (91)، اور کوئٹہ (81) ہیں۔اس سال جبری گمشدہ افراد میں 75 نابالغ اور 18 خواتین بھی شامل ہیں جن میں نسرینہ بلوچ اور خیالنساء بلوچ شامل ہیں جن کی عمریں بالترتیب 15 اور 17 سال ہیں۔ اس کے علاوہ آٹھ ماہ کی حاملہ خاتون ہانی دلوش اور پولیو متاثرہ ماہجبین بلوچ بھی شامل ہے جو تاحال لاپتہ ہے۔ جبری گمشدہ افراد میں طلباء سب سے بڑی متاثرہ طبقہ ہیں (206)، اس کے بعد مزدور (103)، چھوٹے کاروباری (66)، ڈرائیورز (55)، اور کسان (29) ہیں۔ طلباء اور اساتذہ مل کر کل متاثرین کا 40 فیصد بنتے ہیں۔ جبرہ گمشدہ کرنے والے اداروں میں فرنٹیئر کور (FC) سب سے زیادہ ملوث ہے جس کے خلاف 652 کیسز ریکارڈ ہوئے، اس کے بعد CTD (211)، MI (173)، ریاستی حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈ (35)، اور ISI (28) ملوث رہی ہیں۔
تنظیمی رہنمائوں کا کہنا تھا کہ اس سال، تنظیم نے بلوچ شہریوں کے 188 ماورائے عدالت قتل کے واقعات درج کیے ہیں۔ ماورائے عدالت قتل جون میں 31 واقعات کے ساتھ عروج پر پہنچے، جبکہ دسمبر میں صرف دو واقعات رپورٹ ہوئے۔ سب سے زیادہ ماورائے عدالت قتل کئے جانے والے بلوچ ضلع کیچ سے تھے جن کی تعداد 66 تھی، اس کے بعد آواران 41، خضدار 15، اور پنجگور 15 کیسز تھے۔ مکران کا علاقہ (کیچ، گوادر، پنجگور) اور آواران مجموعی کیسز کا 60 فیصد بنتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2025 میں بلوچستان میں ماورائے عدالت قتل کے 188درج شدہ واقعات میں سے کم از کم 75 افراد کو “کِل اینڈ ڈمپ” کے پالیسی کے تحت سے قتل کیا گیا، جو کل ہلاکتوں کا تقریباً 40 فیصد بنتا ہے۔ اس کے بعد 50 افراد کو ٹارگٹ کلنگ میں، 25 افراد کو حراست کے دوران، اور 24 افراد کو جعلی مقابلوں میں قتل کیا گیا۔اسی سال پاکستانی فورسز اور ان کی حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈز کے ہاتھوں 18 سال سے کم عمر کے 15 بچے بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنائے گئے ۔
ان کے مطابق ان واقعات کو دیکھے تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بلوچستان میں تشدد ایک منظم اور ادارہ جاتی عمل کے طور پر سامنے آیا ہے جو پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور ریاستی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کی جانب سے بلوچستان میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ محض ایک الگ تھلگ بدعنوانی نہیں بلکہ ایک جان بوجھ کر دباؤ ڈالنے کا آلہ ہے جس کا مقصد اختلاف رائے کو دبانا، خوف پیدا کرنا، اور اجتماعی سزا نافذ کرنا ہے۔ متاثرین کو معمول کے مطابق جبری گمشدگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، انہیں خفیہ حراستی مراکز میں رکھا جاتا ہے، قانونی تحفظات تک رسائی سے محروم رکھا جاتا ہے، اور شدید جسمانی و نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پورے 2025 کے دوران، "مارو پھینکو” کی پالیسی بلا روک ٹوک جاری رہی، خاص طور پر جولائی اور اگست کے مہینوں میں۔ متاثرین میں بچے، طلباء، اساتذہ، ڈرائیور، دکاندار، سیاسی کارکن، اور خواتین شامل تھیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ تشدد بلا تفریق شہری آبادیوں پر لاگو کیا جاتا ہے۔ نازیہ شفیع بلوچ کے کیس میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے استعمال کو بطور تشدد ایک خطرناک اضافہ کے طور پر دیکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ فرزندوں کو غیر انسانی اجتماعی سزا کا ہر روز نشانہ بنایا جارہا ہے پاکستانی فوج، اور حکومت بلوچستان کی انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے باغیوں کے خلاف 58000 فوجی آپریشنز کیے ہیں۔انہی آپریشنز میں مسلسل بہت سارے شہری براہ راست متاثر ہوتے رہے ہیں جن کی جان، آزادی، جائیداد اور دیگر نقصانات ہوتے رہے ہیں۔ ان اعداد و شمار کو توڑ کر دیکھا جائے تو بلوچستان میں روزانہ کی بنیاد پر کم از کم 169 آپریشنز کئے جاتے ہیں۔ یہ آپریشنز بلا تفریق تشدد کی خصوصیت رکھتے ہیں جیسے فضائی بمباری، ڈرون حملے، مارٹر اور راکٹ حملے، نقل و حرکت کی پابندیاں اور مواصلاتی بندشیں، مشتبہ شہریوں کو موقع پر قتل کرنا، جبری گمشدگیاں، خاندانوں پر تشدد، جائیداد کو نقصان پہنچانا، گھروں کو مسمار کرنا، فصلوں اور مویشیوں کو جلانا، اور پورے دیہات کی زبردستی نقل مکانی پر مجبور کرنا ۔مکران کا علاقہ سب سے زیادہ فوجی آپریشنز سے متاثر ہوا ہے، اس کے بعد آواران، قلات، خضدار، مستونگ، خاران، ڈیرہ بگٹی، نوشکی، سوراب، حب، بارکھان، کوہلو، کچھی (بولان)، اور واشک شامل ہیں۔ خضدار کے علاقے زہری میں ستمبر اور اکتوبر کے فوجی آپریشن کے دوران شہریوں پر فضائی بمباری اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں تقریباً 20 شہری جاں بحق ہوئے جن میں چار خواتین اور چار بچے شامل تھے۔ اس کے علاوہ، فرنٹیئر کور کی جانب سے شہری آبادی پر 11 مہلک حملے رپورٹ ہوئے جن میں چار بچے مارے گئے اور ہلاکتوں میں بچے، خواتین اور نوجوان شامل تھے۔
بی وائی سی رہنمائوں نے مزید کہا کہ اسکے علاوہ جہاں سال 2025 کے دوران، بلوچستان میں بنیادی آزادیوں کو منظم طریقے سے محدود کیا گیا، جو ریاستی ظلم و ستم کے ایک وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جس میں پرامن شہریوں کو منظم طریقے سے دبایا گیا وہی دوسرے جانب اس جبر کے ماحول میں زندہ رہنے کی جدوجہد بھی جاری رہی ۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے جبری گمشدگی کے متاثرین کے خاندانوں کے ساتھ مل کر سال بھر میں 122 سے زائد پرامن احتجاج کیے تاکہ سچائی، انصاف، اور جوابدہی کا مطالبہ کیا جا سکے۔ ان میں سے کم از کم 39 احتجاجات اور دھرنے ریاستی حکام کی جانب سے پرتشدد انداز میں کچلے گئے، جن میں حب، ملیر، لیاری، گڈانی، اوتھل، فقیر کالونی، دالبندین، ڈیرہ مراد جمالی، قلات، نوشکی، وڈھ ، مستونگ اور کوئٹہ شامل ہیں، جہاں پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز نے مداخلت کی۔ یہ غیر پرتشدد اختلاف رائے کے خلاف عدم برداشت کے ایک مستقل رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کریک ڈاؤنز کے دوران 400 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا، 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے، اور کم از کم چار افراد جان کی بازی ہار گئے، جو طاقت کے غیر ضروری استعمال کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔ مزید برآں، 16 سے زائد طویل دھرنے ریکارڈ کیے گئے، جو خاندانوں کی ہمت اور انصاف کے لیے مسلسل جدوجہد کو ظاہر کرتے ہیں، باوجود اس کے کہ انہیں دھمکیاں اور ظلم و ستم کا سامنا تھا۔ اس سال بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ بند رہا اور 11 مواقعوں پر صوبے بھر میں مکمل انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن بھی ہوئے، جن میں سے کچھ کئی ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہے، جس نے معلومات تک رسائی، اظہار رائے کی آزادی، اور پرامن اجتماع کے حق کو شدید طور پر محدود کر دیا۔ مجموعی طور پر، یہ تمام واقعات بلوچستان میں انسانی حقوق کے بگڑتے ہوئے ماحول کو ظاہر کرتے ہیں، جس کا مقصد پرامن احتجاج کو مجرمانہ قرار دینا، شہری آزادیوں کا خاتمہ، اور متاثرین کی آوازوں کو دبانا ہے، بجائے اس کے کہ ان کے جائز مطالبات کو حل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس پورے سال قانونی نظام کو انسانی حقوق کے محافظین، ان کے خاندانوں، سول سوسائٹی کے ارکان، سیاسی کارکنوں، علمی حلقوں اور سرکاری ملازمین کو نشانہ بنانے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ کوئی بھی گروہ یا فرد جو انصاف، قانون کی حکمرانی، یا ریاستی دہشت گردی اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے جوابدہی کا مطالبہ کرتا ہے، قانونی ہراسانی اور ریاستی ظلم و ستم کا نشانہ بن جاتا ہے۔ 2025 میں انسداد دہشت گردی ایکٹ، پبلک آرڈر کی بحالی (MPO)، عوامی اجتماعات پر پابندی کے لیے سیکشن 144، چوتھی شیڈول وغیرہ کے غیر معمولی استعمال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قانون کو ایگزیکٹو کی جانب سے عوام پر کنٹرول سخت کرنے اور پرامن مزاحمت کو کچلنے کے لیے ہتھیار بنایا گیا ہے۔ اس سال بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف ایک منظم کریک ڈاؤن کا ابتدا 19 مارچ کو بیبرگ بلوچ کے اغوا نما گرفتاری سے کیا گیا۔ جس کے بعد ایک ایک کر کرے تنظیم کو رہنماؤں کو گرفتار کیا جانا شروع کیا گیا۔ تنظیم کے رہنماؤں کو تین ماہ تک تھری ایم پی او کے تحت گرفتار رکھا گیا جبکہ اس کے بعد جب تھری ایم پی او کی مدت ختم ہوئی تو پرانے ایف آئی آرز کے تحت گرفتاری کو جاری رکھا گیا، اور اب بھی قابل ضمانت کیسسز میں ضمانت نا دیکر گرفتاری کو طویل کیا جارہا ہے۔
ان کا ہہنا تھا کہ ایک پریس کانفرنس کےذریعے بلوچستان بھر میں پورے سال کے انسانی حقوق کے پامالیوں کی منظر کشی ممکن تع نہیں مگر اس ڈیٹا سے یہ ضرور معلوم ہوسکتا ہے کہ بلوچستان سلگ رہا ہے، بلوچستان میں زندگی محصول ہوچکی ہے اور ہر روز ہر خاندان کو اجتماعی سزا کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس کے بر عکس بلوچستان آپکو مین اسٹریم میڈیا سے باہر نظر آئے گا، اور اگر کہیں کوئی خبر ہوگی تو محض جھوٹ اور منگھڑت بیانات کے سوا کچھ نہیں۔ بلوچستان میں بلیک آوٹ کی واحد وجہ بلوچستان میں جبر جاری رکھنا ہے تاکہ بلوچستان کے وسائل پر اسکے عوام کے تمام حق چھین لیے جاسکے اور خاموشی سے انہیں مٹایا جاسکے۔ بلوچستان میں ریاست کے اپنے اداروں میڈیا اور عدلیہ کی مکمل غیر فعالی کا مقصد بھی یہی ہے کہ لاقانونیت کے زریعے بلوچستان میں خوف بر قرار رکھا جاسکے۔ اس صورت حال میں ہم پھر بار بار میڈیا کے سامنے حقائق لانے کی کوشش کرتے ہے، ہمیں معلوم ہے کہ صرف اسی جدوجہد کے پاداش میں شائد مجھے یا میرے باقی ساتھیوں کو بھی کسی دہشتگردی کے مقدمے کے تحت جیل میں پھینکا جاسکتا ہے مگر ہم پھر بھی خاموش نہیں ہوسکتے کیونکہ یہ ہمارے بقا کا سوال ہے ، اور ہم توقع کرتے ہے کہ آپ صحافت کے اس عظیم پیشے سے وابسطہ ہوکر اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے بلوچستان میں جاری جبر کے حقائق دنیا کے سامنے لا کر ہماری آواز بننے میں ہماری مدد کرینگے۔