ایمان مزاری اور ہادی علی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

جبری گمشدگیوں سے متعلق مقدمات کی پیروی کرنے والی انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چھٹہ کو جمعے کے روز پاکستان کے دارالحکومت اسلام آبادکی انسداددہشتگردی عدالت نے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

اس سے قبل دونوں کو پاکستانی سیکورٹی ایجنسیز اور پولیس نے عدالت جاتے ہوئے راستے میں بڑی نفری کے ساتھ گاڑی روک کر ساتھی وکلا کو تشدد کا نشانہ بناکر ایمان مزاری اور ہادی علی کوحراست میں لیکرگھسیٹتے ہوئے فورسز کی گاڑیوں میں بٹھاکر لے گئے تھے ۔

ملزمان کو پولیس کے سخت پہرے میں کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا جہاں کسی بھی وکلا اور صحافی کو اندر جانے نہیں دیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کو تھانہ سیکرٹریٹ میں گزشتہ برس درج ہونے والے مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے تاہم انھوں نے اس مقدمے کی ایف ائی آر عدالت میں پیش نہیں کی۔

اسلام آباد پولیس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ان دونوں کو نقصِ امن یعنی لا اینڈ آرڈر کی صورت حال پیدا کرنے، شر انگیزی پھیلانے اور کار سرکار میں مداخلت کے الزامات پر گرفتار کیا گیا ہے۔

تفتیشی افسر نے ملزمان کے سات روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جو کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے مسترد کردی اور ان دونوں کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔

اس سے قبل ایمان مزاری کی والدہ اور سابق پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری نے ایکس پر دعویٰ کیا ہے کہ ’ایمان اور ہادی کو گرفتار کر کے الگ الگ گاڑیوں میں بیٹھا کر نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے اور گرفتاری سے قبل انھیں کوئی ایف آئی آر نہیں دکھائی گئی، بدقسمتی سے (اسلام آباد) بار کچھ نہ کر سکی۔ یہ فسطائیت کا عروج ہے۔۔۔‘

وکیل ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چھٹہ سے منسلک وکلا کے مطابق یہ دونوں متنازع ٹویٹ کے مقدمے میں سییشل جج سینٹرل کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی وین میں سوار ہو کر جا رہے تھے جب سرینا ہوٹل کے قریب پولیس نے اُن کی گاڑی کو روکا اور دونوں میاں بیوی کو حراست میں لے لیا۔

جس وقت پولیس نے ملزمان کو گرفتار کیا اُس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سیکریٹری بھی گاڑی میں ایمان اور ہادی کے ساتھ موجود تھے۔

خیال رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرنے میں پیش پیش رہے ہیں، انہوں نے بلوچستان سے لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کے مقدمات کی بھی پیروی کی ہے۔

ایمان مزاری کے خلاف جاری ٹرائل پر انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ ساتھ بلوچ سیاسی حلقوں اور بلوچستان سے لاپتہ افراد کے لواحقین نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

Share This Article