بلوچستان بار کونسل نے اسلام آباد پولیس کی جانب سے سینئر وکیل اور معروف انسانی حقوق کی علمبردار ایمان مزاری ایڈووکیٹ کو حراست میں لینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آئینِ پاکستان، قانون کی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
بار کونسل کے ترجمان کے مطابق ایک جمہوری ریاست میں کسی وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن کو محض اظہارِ رائے اور قانونی سرگرمیوں کی بنیاد پر نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ایمان مزاری ایڈووکیٹ نہ صرف ایک ذمہ دار قانونی ماہر ہیں بلکہ وہ جبری گمشدگیوں، انسانی حقوق کی پامالی اور قانون کی بالادستی کے لیے مسلسل آواز بلند کرتی رہی ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری ایڈووکیٹ کو حراست میں لینا دراصل آزاد عدلیہ، وکلاء برادری اور انسانی حقوق کے تحفظ پر حملے کے مترادف ہے۔ بلوچستان بار کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ ایمان مزاری ایڈووکیٹ کو فوری طور پر رہا کیا جائے، ان کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جائیں اور وکلاء و انسانی حقوق کے کارکنوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
بلوچستان بار کونسل نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایمان مزاری ایڈووکیٹ کو فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو وہ قانونی اور جمہوری احتجاج کا حق استعمال کرے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔
بار کونسل نے احتجاجاً 24 جنوری کو صوبے بھر میں عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان بھی کیا ہے۔
دریں اثنا بلوچستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین سینئر ممبر بلوچستان بار کونسل راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ نے اپنے ایک بیان میں انسانی حقوق کیلئے آواز بلند کرنے والے سرگرم کارکن ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی گرفتاری آئین و قانون سے متصادم جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔
بیان میں کہا کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے ہمیشہ ملک کے اندر انسانی حقوق کے پامالیوں کے خلاف آواز بلند کی وہ آئین و قانون کی بالادستی جمہوریت کی بحالی کیلئے آواز بلند کرتے رہے ۔
بیان میں کہا کہ آج جس طریقے سے اسلام آباد پولیس کی جانب سے ماورا ءآئین و قانون کی خلاف ورزی کی گئی وہ عدالت میں پیشی کیلئے جاتے ہوئے راستے میں جبری طور اٹھائے گئے اس جیسے اقدامات کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔
بیان میں کہا کہ انتظامیہ فوری طور پر ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو رہا کرے اور ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔