بلوچستان کے ضلع گوادر تحصیل جیونی کے علاقے کنٹانی میں پاکستانی سیکورٹی فورسز نے تیل کے روزگار سے وابستہ محنت کشوں کے ٹھکانے نذرِ آتش کر دیے ۔
واقعے کے بعد متاثرہ مزدوروں کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں کے چولہوں کی امید دھویں میں تحلیل ہو گئی ہے اور درجنوں خاندان شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہو گئے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق مکران بھر سے روزگار کی تلاش میں ہزاروں افراد کنٹانی کے ساحلی علاقے میں مقیم ہیں، جہاں وہ سمندر سے آنے والے تیل کی ترسیل اور اس سے جڑے روزگار سے وابستہ ہیں۔ یہی افراد ساحل کے کنارے عارضی رہائش گاہوں، ڈپوؤں اور ٹھکانوں میں مقیم تھے، جنہیں کارروائی کے دوران جلا دیا گیا۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ اس عمل میں ان کے قیمتی اثاثے بھی ضائع ہو گئے ہیں۔
تاحال اس کارروائی کی وجوہات سرکاری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔ تاہم سوشل میڈیا پر مزدوروں کی آہ و فریاد اور متاثرہ خاندانوں کی ویڈیوز و بیانات گردش کر رہے ہیں، جن میں سیکیورٹی اداروں کے کردار پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
عوامی حلقوں اور سماجی کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور متاثرہ مزدوروں کے لیے فوری ریلیف اور متبادل روزگار کا بندوبست کیا جائے۔