وی بی ایم پی کا احتجاجی دھرنا 6051 ویں روز میں داخل، نسرینہ بلوچ کا کیس حکومت اور کمیشن کو فراہم

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری احتجاج 6051ویں روز میں داخل ہو گیا۔ لاپتہ افراد کے لواحقین بدستور احتجاجی کیمپ میں بیٹھ کر اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہیں۔

احتجاج کے دوران مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ انہوں نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لاپتہ افراد، بالخصوص جبری طور پر لاپتہ بلوچ خواتین کی فوری اور باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا۔

لاپتہ افراد کے لواحقین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پیاروں کی باحفاظت بازیابی اور انصاف کے حصول کے لیے متعلقہ اداروں کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں اور پرامن احتجاج کے ذریعے اعلیٰ حکام سے اپیلیں کر رہے ہیں، تاہم کسی بھی سطح پر شنوائی نہیں ہو رہی، جس کے باعث وہ شدید ذہنی کرب اور اذیت کا شکار ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے لواحقین کو یقین دہانی کرائی کہ تنظیم جبری گمشدگیوں کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ماورائے قانون اقدامات کے خلاف اپنی آئینی اور پرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔

نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ تنظیمی سطح پر جبری لاپتہ خاتون نسرینہ بلوچ کا کیس حکومت اور متعلقہ کمیشن کو فراہم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت اور کمیشن سے اپیل کی کہ نسرینہ بلوچ کی فوری اور باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے، اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظرِ عام پر لا کر عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ انہیں قانونی چارہ جوئی اور صفائی کا حق دیا جا سکے۔

وی بی ایم پی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کے خاتمے تک احتجاج اور جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

Share This Article