بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقے آبسربنڈے بازار میں کائونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ( سی ٹی ڈی )کے کانسٹیبل کے گھر پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے دستی بم سے حملہ کیا۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ دستی بم وسام نامی کانسٹیبل کے گھر میں گرتے ہی نہیں پھٹ سکا جس کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
واقعے کے فوراً بعد پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کر دی۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کر لیا گیا تاکہ گرنیڈ کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنایا جا سکے۔
پولیس کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے جو واقعے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی تاہم سی ٹی ڈی بلوچستان میں ماورائے آئین و قانون گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں سمیت لاپتہ افراد کے جعلی مقابلوں میں ماورائے عدالت قتل کے سنگین جرائم میں ملوث پایا گیا ہے جس کی لاپتہ افراد لواحقین ،سیاسی و انسانی حقوق ادارے اور مقامی میڈیا مستند ثبوت کے ساتھ تصدیق کر چکے ہیں۔
کہا جارہا ہے کہ سی ٹی ڈی میں مقامی افراد کو بھرتی کیا گیا ہے تاکہ آزادی پسند تنظیموں اور اس کے ہم خیال لوگوں کو کھوج کر انہیں نشانہ بنایا جاسکے ۔ لیکن سرگرم مسلح تنظیموں کے خفیہ نیٹ ورک پاکستانی سیکورٹی فورسز اداروں کے ان مقامی لوگوں کی پروفائلنگ کرکے بعد ازاں انہیں بھی نشانہ بناتے رہتے ہیں۔