ریاستی حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈ نے جبری گمشدہ ڈاکٹر ظریف بلوچ کو ماورائے عدالت قتل کردیا، بی وائی سی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے گِشکور میں ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں مقامی طبی کارکن ڈاکٹر ظریف بلوچ کو مبینہ طور پر ریاستی حمایت یافتہ مسلح گروہ نے جبری طور پر لاپتہ کرنے کے بعد قتل کر دیا۔ ان کی لاش بعد ازاں ہوٹان ندی سے برآمد ہوئی۔

بیان میں کہا گیا کہ عینی شاہدین کے مطابق، ڈاکٹر ظریف بلوچ جو محمد یعقوب کے فرزند اور پیشے کے اعتبار سے میڈیکل ڈسپنسر تھےکو 14 جنوری کی شام تقریباً 5 بجے ریکچائی میں واقع ان کی میڈیکل اسٹور سے مسلح افراد زبردستی لے گئے۔ مسلح افراد کھلے عام اور دن دہاڑے کارروائی کرتے ہوئے انہیں ان کے کام کی جگہ سے اٹھا کر لے گئے۔

انہوں نے کہا کہ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اغوا کے چند گھنٹوں بعد، تقریباً 7 بجے شام ڈاکٹر ظریف کو قتل کر دیا گیا۔ ان کی لاش پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے، جسے بعد میں ندی میں پھینک دیا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ ڈاکٹر ظریف بلوچ علاقے میں بنیادی طبی سہولیات فراہم کرنے والے چند کارکنوں میں سے ایک تھے۔ ان کا قتل نہ صرف حقِ زندگی کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور مکمل استثنیٰ کے سلسلے کی ایک اور کڑی ہے۔

بی وائی سی کے مطابق، صحت کے کارکنوں، طلبہ، اساتذہ اور عام شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات نے خطے کے سماجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور خوف، عدم تحفظ اور نفسیاتی صدمے میں اضافہ کیا ہے۔

بی وائی سی نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی برادری کی فوری توجہ اور مؤثر کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔

Share This Article