وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے معروف انسانی حقوق کے کارکن اور جبری گمشدگیوں کے خلاف طویل جدوجہد کرنے والے ماما قدیر کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس آج بروز جمعرات 15 جنوری 2026 کو دوپہر ایک بجے کوئٹہ پریس کلب میں منعقد کیا جائے گا۔
تعزیتی ریفرنس میں ماما قدیر کی طویل جدوجہد، قربانیوں اور انسانی حقوق بالخصوص جبری گمشدگیوں کے خلاف مسلسل احتجاج کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔ اس موقع پر مقررین ماما قدیر کی جدوجہد کو بلوچ قومی تاریخ کا ایک اہم باب قرار دیتے ہوئے ان کی خدمات پر روشنی ڈالیں گے۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے جنرل سیکرٹری حوران بلوچ نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم نے ممکنہ حد تک تمام سیاسی، سماجی، انسانی حقوق کی تنظیموں اور شخصیات تک دعوت نامے پہنچانے کی کوشش کی ہے، تاہم اگر کسی کو ذاتی طور پر دعوت نہ مل سکی ہو تو اس پر معذرت خواہ ہیں۔
حوران بلوچ کے مطابق یہ تعزیتی ریفرنس محض ایک تقریب نہیں بلکہ ماما قدیر کی جدوجہد اور میراث کو زندہ رکھنے اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کی جدوجہد کو جاری رکھنے کے عزم کی تجدید ہے۔ انہوں نے بلوچ قوم کے تمام فرزندوں، انسان دوست اور بلوچ دوست حلقوں، اور ہر مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کی کہ وہ تعزیتی ریفرنس میں شرکت کر کے یکجہتی کا اظہار کریں۔
انہوں نے کہا کہ شرکاء کی موجودگی نہ صرف ماما قدیر کی روح کے لیے سکون کا باعث ہوگی بلکہ لواحقین کے غم میں شریک ہونے اور دنیا کو یہ پیغام دینے کا ذریعہ بھی بنے گی کہ جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اس وقت تک بلند رہے گی جب تک آخری لاپتہ فرد اپنے گھر واپس نہیں آ جاتا۔
تعزیتی ریفرنس کے اختتام پر ماما قدیر کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی جائے گی۔