تمپ ہوت آباد اور جیونی سے 18 شہری جبری طور پر لاپتہ کئے گئے، بی وائی سی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقوں تمپ ہوت آباد اور جیونی سے کم از کم 18 بلوچ شہریوں کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔

کمیٹی نے ان کارروائیوں کو "اجتماعی سزا” قرار دیتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضلع کیچ کے علاقے تمپ ہوت آباد سے 7 جنوری 2026 کو، سیکیورٹی فورسز نے گھروں پر چھاپے مار کر 11 افراد کو حراست میں لیا۔ ان میں سے دو، ریاض حسن اور سجاد برکت، 10 جنوری کو رہا کر دیے گئے، تاہم باقی 9 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ لاپتہ ہونے والوں میں حسرت حاصل (پاک فضائیہ کا اہلکار)، کاشف ایوب (دکاندار)، ریاض یعقوب (دکاندار)، داد کریم، جلیل احمد (ڈرائیور)، صغیر الٰہی (طالب علم)، سلام (دکاندار)، فوزیل رفیق (طالب علم)، اور سراج برکت (طالب علم) شامل ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ ضلع گوادر کے علاقے جیونی پانوان سے 25 دسمبر 2025 سے 7 جنوری 2026 کے درمیان ماہی گیروں کی بستیوں میں آپریشنز کیے گئے، جس کے نتیجے میں 7 ماہی گیروں کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ لاپتہ ہونے والے ماہی گیروں میں جہانگیر، شمس الدین، شبیر، سمید، رضوان، آصف، اور اسراج شامل ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ان جبری گمشدگیوں کی مذمت کی ہے، جو ان کے مطابق بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

کمیٹی نے قومی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ، اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور لاپتہ افراد کی بحفاظت اور فوری رہائی کو یقینی بنائیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) سمیت دیگر تنظیمیں بھی ملک میں جبری گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔

Share This Article