بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) نے"2025 میں بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیاں،اجتماعی سزا اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں " کے عنوان سے ایک تفصیلی رپورٹ جاری کیا ہے ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں 2025 کے دوران خواتین کی جبری گمشدگیوں کے متعدد سنگین واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں کم عمر لڑکیوں، حاملہ خواتین اور بزرگ ماؤں تک کو نشانہ بنایا گیا۔ کئی کیسز میں خواتین کو بغیر وارنٹ گھروں سے اٹھایا گیا، حراست سے انکار کیا گیا اور بعض کو تشدد کے نشانات کے ساتھ چھوڑ دیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پنجگور کی نازیہ شفیع جبری گمشدگی کے بعد شدید تشدد اور جنسی تشدد کا نشانہ بنیں اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں، جو سال 2025 کا واحد ماورائے عدالت قتل قرار دیا گیا ہے۔حب چوکی، خضدار، دالبندین اور پنجگور سے 15 سالہ نسرین بلوچ، حاملہ ہانی دلوش، 17 سالہ حیر نسا، فرزانہ زہری، رحیمہ رحیم سمیت کئی خواتین کو اٹھایا گیا، جن میں سے بعض تاحال لاپتہ ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے احتجاج اور دھرنے بھی دیے، مگر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ متعدد کیسز میں خاندانوں اور عینی شاہدین نے سیکیورٹی فورسز، انٹیلی جنس اداروں اور CTD پر براہِ راست ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ واقعات آئینِ پاکستان اور بین الاقوامی انسانی حقوق قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور بلوچستان میں اجتماعی سزا کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2025 میں بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیاں ایک منظم اور مسلسل پالیسی کی شکل اختیار کر چکی ہیں، جو نہ صرف آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ پورے معاشرے میں خوف، عدم تحفظ اور طویل مدتی نفسیاتی صدمات کا باعث بن رہی ہے۔