داؤد جان اور رمیز کی جبری گمشدگی تشویشناک ہے، فوری بازیاب کیاجائے،بی ایس سی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب نے داؤد جان بلوچ اور رمیز بلوچ کی جبری گمشدگی اور بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دونوں طلبہ کی جلد از جلد بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

تنظیم کے ترجمان نے جاری بیان میں کہا کہ ریاست نے بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں ایسا خوفناک ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں بلوچ طلبہ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بلوچ طلبہ کو تعلیم حاصل کرنے کی سزا کے طور پر جبری گمشدگیوں اور ہراسانی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو ایک تشویشناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔

بیان میں بتایا گیا کہ داؤد جان بلوچ، جو یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) لاہور میں سول انجینئرنگ کے طالب علم ہیں، کو 2 نومبر 2025 کو صبح پانچ بجے ان کے کزن اور بھائی سمیت خاندان کے سامنے بغیر کسی الزام کے اٹھا لیا گیا۔ تاحال اہلِ خانہ کو ان کی گرفتاری یا مقام سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

اسی طرح رمیز بلوچ ولد نواب، جو اردو ادب میں ایم فل کے طالب علم اور بی ایس سی ملتان کے سابق چیئرمین رہ چکے ہیں، کو 12 جنوری 2026 کو کوئٹہ سے مبینہ طور پر سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لیا۔ ان کی جبری گمشدگی کے بعد بھی خاندان کو ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیوں کا یہ سلسلہ اب بلوچستان سے نکل کر ملک بھر میں زیرِ تعلیم بلوچ طلبہ تک پھیل چکا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ ایک منظم پالیسی ہے جس کا مقصد بلوچ قوم کے تعلیم یافتہ طبقے کو نشانہ بنا کر اس کے مستقبل کو اندھیرے میں دھکیلنا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستانی تعلیمی اداروں میں بلوچ طلبہ کو منظم ہراسانی، پروفائلنگ اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے، جس کے باعث متعدد طلبہ اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف انفرادی سطح پر نقصان دہ ہے بلکہ مجموعی طور پر بلوچ قوم کی تعلیمی اور سماجی ترقی کے لیے بھی شدید خطرہ ہے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل، پنجاب نے ان واقعات کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ رمیز بلوچ، داؤد جان بلوچ اور تمام جبری گمشدہ بلوچ طلبہ کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔ تنظیم نے انسانی حقوق اور تعلیم دوست اداروں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات کرائیں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

Share This Article