بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کےخلاف وی بی ایم پی کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ کو تنظیم کے چیرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں کوئٹہ پریس کلب کےسامنے 6044 دن مکمل ہوگئے۔
مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی، انہوں نے جبری لاپتہ بلوچوں کی مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی پر تشویش کا اظہار کیا، اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگیاں انسانی حقوق اور ملکی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، اسلیے ہم جبری گمشدگیوں اور ماورائے قانون اقدامات کے خلاف تنظیم کے پیلٹ فارم سے 2009 سے پرامن اور آئینی طریقے سے مسلسل جدوجہد کرتے آرہے ہیں ہماری طویل اور امن جدوجہد کا مقصد یہ ہے کہ ہم ملک کو جبری گمشدگیوں سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے تنظیم کے مطالبات بھی آئینی ہے ہم چاہتے ہیں کہ جبری گمشدگیوں اور لاپتہ بلوچوں کی ماورائے قانون قتل کرنے کی سلسلے کا مکمل سدباب کیا جائے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنانے کےحوالےسےفوری طور پر عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔