کوئٹہ: وی بی ایم پی کا احتجاج جاری، جبری لاپتہ نسرینہ کی اہلخانہ کی شرکت

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کے چیرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6041ویں روز جاری رہا۔

اس موقع پر مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

اس دوران نسرینہ بلوچ کے لواحقین نے احتجاج میں شرکت کی، اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا.

انہوں نے کہا کہ نسرینہ کو گزشتہ سال 22 نومبر کو ایف سی، سی ٹی ڈی اور دیگر ملکی اداروں کے اہلکاروں نے زہری گوٹھ، دارو ہوٹل حب چوکی سے ان کے سامنے سے حراست میں لے کر اپنے ساتھ لے گئے۔

انہوں نے کہا کہ انصاف کے حصول کےلیے انہوں نے متعلقہ تھانہ سے رجوع کیا، لیکن پولیس نے نسرینہ کی جبری گمشدگی کی ایف آئی آر درج نہیں کی، اور نہ ہی انہیں نسرینہ کی حوالے سے معلومات فراہم کیا جارہا ہے، جسکی وجہ سے ان کے خان شدید ذہنی دباو کا شکار ہے۔

نسرینہ کے لواحقین نے مزید کہا کہ ان کے احتجاج ریکارڈ کرانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ کوئی کی التجا سنے اور ان کو ملکی قوانین کے تحت انصاف فراہم کرنے میں اپنی کردار ادا کرے.

لواحقین نے بلوچ قوم سمیت تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نسرینہ سمیت دیگر بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی کے خلاف آواز اٹھائیں۔

وی بی ایم پی کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے اس موقع پر کہا کہ نسرینہ بلوچ سمیت دیگر بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی اور انہیں منظر عام پر نہیں لانا، شہریوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے جس کی مذمت کرتے ہیں، اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں، کہ وہ بلوچ خواتین کی باحفاظت بازیابی میں اپنی کردار ادا کرے۔

Share This Article