سوراب اور آواران سے 3 نعشیں برآمد،2 کی شناخت جبری لاپتہ افراد کے طور پر ہوگئی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read
The dead man's body. Focus on hand

بلوچستان کے ضلع آواران اور سوراب سے 3 نعشیں برآمدہوئی ہیں جن میں 2 کی شناخت جبری لاپتہ افراد کے طور پر ہوگئی ہے ۔

آواران سے برآمد ہونے والے نعشوں کی شناخت ایاز بلوچ ولد دوست محمد اور ظریف احمد ولد مستری فقیر محمد کے نام سے ہوئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں افراد کو پاکستانی فوج نے مختلف اوقات میں حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کیا تھا، بعد ازاں انہیں قتل کر کے لاشیں پھینک دی گئیں۔

مقتول ایاز بلوچ کا تعلق کولواہ، گیشکور کے گاؤں سنڈم سے بتایا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایاز بلوچ کو 16 اکتوبر 2025 کو امداد بلوچ نامی ایک اور نوجوان کے ہمراہ حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئے تھے۔

جبکہ ظریف احمد کولواہ کے علاقے مالار سیاہ کل کے رہائشی تھے۔

ذرائع کے مطابق انہیں 28 ستمبر کی رات ان کے گھر سے آدم حسین ولد عبداللہ کے ساتھ حراست میں لیا گیا تھا، تاہم بعد میں آدم حسین کو رہا کر دیا گیا جبکہ ظریف احمد لاپتہ رہے۔

دونوں لاپتہ افراد کی لاشیں گذشتہ روز منگل کوآواران کے علاقے بریت سے برآمد ہوئیں۔

دوسری جانب سوراب کے علاقے ماراپ چانڈوخی کے مقام پر سڑک کنارے سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے جسے نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا ۔

لاش کی شناخت میر جان ولد بھائی خان مڈداشہی کے نام سے ہوئی ہے جو ماراپ کا رہائشی بتایا جا رہا ہے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔

پولیس کے مطابق مقتول کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے، تاہم واقعے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے۔

لاش کو ضروری کارروائی کے لیے سول ہسپتال سوراب منتقل کر دیا گیا جہاں قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد لاش ورثا کے حوالے کردیا۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں گزشتہ چھ روز کے دوران جبری لاپتہ کیے گئے کم از کم 10 افراد کی لاشیں مختلف علاقوں سے برآمد ہو چکی ہیں۔جنہیں پاکستانی فوج نے ماروائے عدالت قتل کرکے ان کی لاشیں پھینک دیں۔

Share This Article