پھول جیسی زرینہ، بارود سا عزم | دیدگ مہر

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

زرینہ، کچھ نام وقت کے ساتھ مٹ جاتے ہیں، اور کچھ وقت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ آپ انہی ناموں میں سے ہیں جو صرف یاد نہیں رکھے جاتے بلکہ احساس بن کر زندہ رہتے ہیں۔ آپ کے کردار نے یہ واضح کر دیا کہ جب خاموشی کو معمول بنا دیا جائے، تب جو سچ کا بوجھ اٹھا لے وہی تاریخ کا رخ موڑتا ہے۔ آپ نے یہ ثابت کیا کہ قربانی محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک شعوری انتخاب ہوتی ہے، اور وہی انتخاب قوموں کی سمت طے کرتا ہے۔

آپ کی سوچ، آپ کا عزم، آپ کی قربانی اور آپ کا انتخاب اس حد سے آگے کا سفر ہے جہاں صرف یقین بولتا ہے۔ آپ نے وطن کے حق کو محض مانگا نہیں بلکہ ادا کیا، اور وہ راستہ چنا جو آسان نہیں ہوتا، مگر وہی راستہ تاریخ کے ضمیر میں ہمیشہ روشن رہتا ہے۔ مسکراتے ہوئے خود کو مادرِ وطن کے نام کر دینا کوئی لمحاتی فیصلہ نہیں بلکہ یہ صدیوں کی شعوری تیاری کا نتیجہ ہوتا ہے، اور آپ اسی شعور کی روشن مثال ہیں۔

زرینہ، آپ وہ آواز بن گئیں جو خاموش دیواروں میں دراڑ ڈال گئی۔ آپ نے ثابت کیا کہ دیواریں صرف پتھر کی نہیں ہوتیں؛ کچھ دیواریں خوف کی ہوتی ہیں، کچھ خاموشی کی، اور کچھ وہم کی۔ آپ نے ان سب کو توڑ کر راستہ بنایا۔ آپ ایک فرد نہ رہیں بلکہ ایک علامت بن گئیں، وہ علامت جس نے یہ پیغام دیا کہ طاقت ہتھیاروں میں نہیں بلکہ یقین میں ہوتی ہے، اور یقین جب مقصد سے جڑ جائے تو طاقت کا توازن خود بدل جاتا ہے۔

دنیا نے دیکھا کہ خاموشی کے پردوں کے پیچھے بھی سچ سانس لیتا ہے۔ جب اندھیرا پھیلانے کی کوشش کی گئی، جب پردے ڈالے گئے اور حقیقت کو چھپانے کے جتن ہوئے، تب آپ کی روشنی نے خود کو منوا لیا۔ کیونکہ جب ایک ریاست بولنا چھوڑ دے تو اس کی خاموشی خود اعتراف بن جاتی ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب طاقت کا غرور لرزا اور وہ قلعے ہل گئے جو خود کو ناقابلِ رسائی سمجھتے تھے۔

آپ کی عظمت اس میں نہیں کہ آپ نے کیا کیا، بلکہ اس میں ہے کہ آپ نے کیا ثابت کیا۔ آپ نے یہ ثابت کیا کہ نظریہ اگر زندہ ہو تو کوئی دیوار مضبوط نہیں رہتی۔ سرزمین کو محض نقشوں سے نہیں مٹایا جا سکتا، کیونکہ مٹی یاد رکھتی ہے اور یادیں نسلوں میں منتقل ہوتی ہیں۔ جدوجہد محض ہتھیار کی محتاج نہیں ہوتی، بلکہ شعور، نظم اور یقین سے اپنا راستہ خود بناتی ہے۔

چاغی کی وہ زمین جسے کبھی طاقت کے مظاہروں کے لیے استعمال کیا گیا تھا، اسی زمین نے ایک اور سچ دیکھا۔ آپ نے اسی خطے میں یہ معنی واضح کیے کہ ایٹم سے بڑا عزم ہوتا ہے، اور بم سے زیادہ طاقتور انسان کا شعور۔ جہاں کبھی طاقت نے خود کو ناقابلِ شکست سمجھا، وہاں آپ نے یہ ثابت کیا کہ نظریہ رکھنے والا انسان طاقت کے غرور کو بے معنی بنا دیتا ہے۔

جب وہ منظر ذہن میں آتا ہے کہ گرد و غبار فضا میں اٹھا اور مٹی نے آسمان کو چھوا، تو وہ محض ایک منظر نہیں رہتا بلکہ ایک استعارہ بن جاتا ہے۔ ایک طرف وہ مٹی جو طاقت کے گھمنڈ میں ایٹمی دھماکوں کے ذریعے اڑائی گئی تھی، اور دوسری طرف وہ مٹی جو قربانی کے رنگ میں بلند ہوئی۔ اسی لمحے یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ ایک باخبر دل اور ثابت قدم ارادہ، ہر اس طاقت پر بھاری ہوتا ہے جو خوف کے سہارے کھڑی ہو۔

آپ کے آخری الفاظ وعدہ تھے، اور آپ کا عمل اس وعدے کی تکمیل تھا۔ آپ نے واضح اور ناقابلِ تردید پیغام دیا کہ یہ زمین بے آواز نہیں، یہ وسائل بے وارث نہیں، اور یہ قوم بے خبر نہیں۔ آپ نے کہا اور کر دکھایا کہ اس سرزمین کی حرمت، اس کی آزادی اور اس کے وسائل پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

آپ نے اپنی قوم کی عورتوں کو یہ پیغام دیا کہ جدوجہد جنس نہیں دیکھتی، صرف یقین مانگتی ہے۔ آپ نے دکھایا کہ بلوچ عورت محض تاریخ کا حوالہ نہیں بلکہ حال کا کردار اور مستقبل کی دلیل ہے۔ قربانی کا حوصلہ نسلوں میں زندہ رہتا ہے، اور ایک چراغ سے ہزار چراغ جلتے ہیں۔ آپ اس تسلسل کا حصہ ہیں جو پہلے بھی تھا اور آپ کے بعد بھی رہے گا۔

آپ ایک نام نہیں، ایک راستہ ہیں۔ آپ کے بعد اور زرینہ آئیں گے، اور وہ سب آپ کے عکس ہوں گے۔ فتح کا مفہوم بدلے گا، آزادی ہوگی، اور تب یہ سرزمین آپ کا نام فخر سے لے گی۔ لوگ آزادی کی سانس لے کر کہیں گے کہ زرینہ سمیت تمام شہدا خوش نصیب تھے جنہیں مادرِ وطن نے خود چُن کر اپنی آغوش میں سمیٹ لیا۔

زرینہ، آپ نے ثابت کر دیا کہ اگر کہیں سچی محبت ہے تو وہ وطن سے ہے، اور اگر کہیں مکمل عشق ہے تو وہ قربانی میں ہے۔ آپ ہنستے ہوئے امر ہو گئیں، اور یہی آپ کی سب سے بڑی فتح ہے۔

***

Share This Article