بلوچستان کے ضلع کیچ میں سی پیک شاہراہ پر پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ ایک ہی خاندان کے 2 خواتین اور2 مردوں کی بازیابی کے لیے جاری دھرنا انتظامیہ کی یقین دہانی پر ایک بار پھرموخر کردیا گیا۔
دو خواتین سمیت دیگر جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے گزشتہ پانچ روز سے اہلِ خانہ کی جانب سے تجابان کے مقام پر ایم-8 شاہراہ پر دیا گیا احتجاجی دھرنا، ڈی ایس پی کہدہ شیر جان کی یقین دہانی کے بعد اتورا کی شام موخر کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کا احتجاج جبری لاپتہ افراد، بالخصوص دو خواتین کی بازیابی کے لیے تھا۔ پولیس حکام کی جانب سے تعاون اور پیش رفت کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین نے پرامن طور پر دھرنا موخر کیا۔
شاہراہ کی بحالی کے بعد ٹریفک کی روانی معمول پر آ گئی ہے، جبکہ اہلِ خانہ نے امید ظاہر کی ہے کہ متعلقہ ادارے دی گئی یقین دہانیوں پر عملی اقدامات کریں گے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی مذکورہ خاندان نےاپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے سی پیک شاہراہ پر دھرنا دیکر اسے بند کردیا تھا اور انتظامیہ کی جانب سے مذاکرات اور اس یقین دہانی کے انہیں جلد بازیاب کیا جائے گا، دھرنا موخر کیا گیا لیکن لاپتہ پیاروں کی عدم بازیابی اور انتظامیہ کی وعدہ خلافی کے بعد دوبارہ دھرنا دیا گیا تھا۔