تربت: بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کے خلاف روڈبلاک احتجاج 5 ویں روز سے جاری

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تجابان کرکی میں سی پیک شاہراہ گذشتہ پانچ روز سے بند ہے جس کے نتیجے میں تربت، کوئٹہ، پنجگور، آواران، کولواہ اور ہوشاپ جانے والی دو طرفہ ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو گئی ہے۔

پانچ روز سے جاری دھرنے کے باعث شاہراہ پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جبکہ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ دھرنا ایک ہی خاندان کے 4 افراد جن میں 2 خواتین اور 2 مرد شامل ہیں کی باحفاظت بازیابی کے لئے دیا جارہا ہے ۔

حیر نسابلوچ اور ہانی بلوچ کو حب چوکی سے جبکہ مجاہد بلوچ، اور فرید بلوچ کو تجابان سے پاکستانی فورسز نے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایاتھا۔

مظاہرین کے مطابق ان افراد پر خودکش حملے کی منصوبہ بندی کے الزامات سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں جنہیں اہلِ خانہ اور مظاہرین مسترد کرتے ہیں۔

مظاہرین نے جبری لاپتہ افراد کی فوری اور باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے وہ اپنے لواحقین کے غیر قانونی اغوا کے خلاف اپنا پرامن دھرنا جاری رکھیں گے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ سے گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات میں لاپتہ افراد، خصوصاً خواتین کی بازیابی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی جس کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا تھا تاہم وعدے پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث دوبارہ احتجاج شروع کرنا پڑا۔

یاد رہے کہ شدید سردی کے باوجود خواتین اور بچے گذشتہ پانچ روز سے دن رات سڑک پر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔

Share This Article